خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 932 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 932

خطبات ناصر جلد اول ۹۳۲ خطبه جمعه ۱۳/اکتوبر ۱۹۶۷ء سے شکست نہ دے لے اس وقت تک یہ جماعت اللہ تعالیٰ کی حفاظت اور پناہ میں ہے دنیا کی کوئی طاقت یا دنیا کی ساری طاقتیں مل کر بھی جماعت احمدیہ کو مٹا نہیں سکتیں۔اسلام تو غالب ہو کر رہے گا اور ہم دعا کرتے ہیں اور ہماری انتہائی خواہش ہے کہ جب اسلام دنیا میں غالب آ جائے پھر بھی یہ جماعت اللہ تعالیٰ کی پناہ میں رہے اور قیامت تک شیطان کے حملوں سے یہ محفوظ رہے یہاں تک کہ وہ زمانہ آجائے جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ انسان پھر اپنے رب کو بھول جائے گا اور یر زمین اور اس پر بسنے والے مٹادئے جائیں گے اور قیامت آجائے گی۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کا زمانہ قیامت تک ممتد ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت نے ہی دنیا میں اسلام کو غالب کرنا ہے۔اب اسلام کا کوئی ایسا سپہ سالار دنیا میں پیدا نہیں ہو گا جو یہ کہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا زمانہ ختم ہو گیا ہے اور اس کا زمانہ اب شروع ہوا ہے یہ ہو ہی نہیں سکتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہامات اور آپ کی تحریرات اس مسئلہ کے متعلق بڑی واضح ہیں۔پس جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی جماعت نے ہی اسلام کی وہ انتہائی خدمت کرنی ہے اور اسلام کے لئے ان انتہائی قربانیوں کو دینا ہے اور اسلام کی خاطر اس انتہائی جاں نثاری کا نمونہ پیش کرنا ہے جس کے نتیجہ میں اسلام نے اللہ تعالیٰ کے فضل سے دنیا میں غالب آنا ہے تو یہ جماعت بحیثیت جماعت یقیناً اللہ تعالیٰ کی حفاظت اور اس کی امان میں ہے لیکن ہم میں سے ہر ایک کو اپنے لئے بھی اور جماعت کے لئے بھی یہ دعا کرتے رہنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ہماری کسی کمزوری یا غفلت یا خود پسندی کی وجہ سے یا کسی حصہ جماعت کو ان کی کسی کمزوری یا غفلت کی وجہ سے اپنی حفاظت اور امان سے باہر نہ نکال دے۔پس مومن کا کام ہے کہ وہ ہر وقت اپنے رب سے ڈرتا بھی رہے اور اس کی رحمت پر پوری امید بھی رکھے اور اس کی ذات پر کامل تو کل بھی رکھے۔پس میں بھی دعا کرتا ہوں آپ بھی دعا کرتے رہیں کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنی حفاظت اور اپنی امان میں رکھے اور جو شر اور ابتلا یا بلا مقدر ہو تو جیسا کہ اس نے وعدہ کیا ہے کہ انذار کی باتیں صدقہ و خیرات اور دعا سے مل جاتی ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس حد تک صدقہ و خیرات اور اس حد تک