خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 897 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 897

خطبات ناصر جلد اوّل ۸۹۷ خطبہ جمعہ ۱۵ رستمبر ۱۹۶۷ء کھو نہ دینا چاہیے۔اس لئے جو قربانی بھی ہم سے مانگی جائے بشاشت سے ہمیں دینی چاہیے کیونکہ جو ہمیں ملا ہے یہ دنیا اس کی قیمت لگا ہی نہیں سکتی اندازہ بھی نہیں کر سکتی اور جو ہم سے مانگا جا رہا ہے وہ چند ٹکے ہیں پھر ہم پر تیسرا یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ ہم اس اتحاد کو جماعت کے اندر قائم رکھیں۔اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک معجزہ سے یہ اتحاد ہم میں پیدا کیا ہے اور قائم رکھا ہے۔وہ ہم سے یہی چاہتا ہے کہ ہم منافق کے نفاق کو کامیاب نہ ہونے دیں منافق جو ہے وہ ادھر کی اُدھر بات نکالتا ہے وہ جھوٹی باتیں کرتا ہے اور منافق کی علامت ہی یہ ہے کہ وہ جھوٹ بولتا ہے اور جس راہ سے بھی فتنہ پیدا کر سکے وہ کرتا ہے۔ایک ہاتھ پر اللہ تعالی نے آپ کو جمع کیا ہے جہاں تک اس دل کا تعلق ہے۔جس کے ساتھ اس ہاتھ کا تعلق ہے۔دل سمجھتا ہے کہ مجھ میں کوئی طاقت ، کوئی علم، کوئی بزرگی ، کوئی خوبی ، کوئی حسن نہیں لیکن اس کو یہ یقین دلایا گیا ہے کہ جس چیز کی بھی تمہیں ضرورت ہوگی وہ میں مہیا کروں گا۔کسی کے لینے دینے کی ضرورت نہیں خواہ وہ بادشاہ وقت ہی کیوں نہ ہو اور کسی سے ڈرنے کی ضرورت نہیں خواہ وہ ساری دنیا کے انسان ہی کیوں نہ ہوں اور کسی ہستی کے سامنے جھکنے کی ضرورت نہیں خواہ وہ عظیم ترین رفعتوں کی مالک ہی کیوں نہ ہو۔جب تم میرے ہو گئے تو پھر تمہیں کسی اور چیز کی ضرورت نہیں۔لیکن منافق آتا ہے اور اس اتحاد ( مرکزی نقطہ ) پر ضرب لگا کے اسے کمزور کرنا چاہتا ہے وہ ہمیشہ ناکام ہوتا ہے پھر بھی ہمیں ہمیشہ چوکس رہنے کی ضرورت ہے یہ ہماری ذمہ داری ہے ہم نے اس اتحاد کو جماعت میں قائم رکھنا ہے ہر قربانی دے کر اور منافق تو اللہ تعالیٰ نے بڑی حکمتوں کے ساتھ ہمارے ساتھ لگایا ہوا ہے۔اس کو ہم نے کامیاب نہیں ہونے دینا۔منافق کی مثال وہ وین ہے جس کی ایک نوک ہے اس کی ایک نوک آپ کو چبھ سکتی ہے، وہ پین آپ کے اندر داخل نہیں ہوسکتی۔اگر کوئی شخص اپنے اس بچے کے بستر پر جس نے رات کو امتحان کی تیاری کے لئے پڑھنا ہو ایک پین اس طرح لگا دے کہ چھن ہو مگر زخم بھی نہ پڑے کہ اگر یہ کرسی چھوڑ کے لیٹے تو پن اس کو چبھ جائے سونے نہ دے تو اس باپ کو ظالم نہیں کہیں گے بڑا پیار کرنے والا کہیں گے۔کیونکہ اس نے ہلکی سی تکلیف سے جاگتے رہنے کے سامان بھی پیدا کر دیئے اور جو تکلیف واقع میں پہنچ سکتی تھی