خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 892 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 892

خطبات ناصر جلد اول ۸۹۲ خطبہ جمعہ ۱۵ رستمبر ۱۹۶۷ء شکست کھائی اور جتنی مسلمان فوج تھی اس سے کہیں زیادہ مقتول اور لاشیں میدان میں چھوڑ کر وہاں سے بھاگے۔تو محبت کے یہ عظیم کارنامے صفحہ تاریخ پر کیسے ابھرے ہعقل اس کا جواب نہ دے سکتی تھی آج حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے طفیل ہم اپنے دلوں میں جو محبت محسوس کرتے ہیں اس نے ہمیں یہ بتایا ہے کہ یہ معجزانہ عمل جو ہیں، وہ کس طرح اور کیوں ظہور پذیر ہوتے ہیں؟؟ یہ اللہ تعالیٰ کا بڑا احسان ہے۔خداوند کریم نے واضح الفاظ میں یہی کہا ہے کہ دنیا کی کوئی طاقت نہیں جو اس طرح کی محبت دلوں میں پیدا کر سکتی ہو۔میں ان کو انتباہ تو بڑا سخت کرتا تھا ان کو یہی کہتا تھا کہ دیکھو کہ انسان نے ایٹم بم اور ہائیڈ روجن بم بنا لئے۔ساری دنیا میں جتنے بھی ایٹم اور ہائیڈروجن بم ہیں وہ سارے مل کر بھی ایک دل کو بدل نہیں سکتے۔لیکن اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو مذہب دنیا میں بھیجا جاتا ہے وہ لاکھوں اور کروڑوں دلوں کو بدلتا چلا جاتا ہے۔اس واسطے مذہب کے میدان میں لڑائی جھگڑے کا نہ کوئی فائدہ ہے نہ کوئی معقولیت ہے۔امن اور صلح کی فضا میں ہم سے یہ فیصلہ کرو کہ عیسائیت سچی ہے یا اسلام سچا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو مختلف دعوت ہائے فیصلہ دنیا کو دیئے ان میں سے تین میں نے اس سفر میں ان کے سامنے رکھے۔دوان پادریوں کو دیئے اور ان کو کہا کہ جہاں تم نے مجھے ملنے سے قبل دنوں مشورہ کیا۔اب تم دن اور ہفتے لگاؤ اور سوچو اور کمیٹی آف ایکوال کو اس بات پر راضی کرو کہ وہ ہمارے ساتھ ان طریقوں پر فیصلہ کرے کہ اسلام سچا ہے یا عیسائیت سچی ہے مجھے امید نہیں کہ وہ اس بات کو مانیں گے کیونکہ وہ اپنی کمزوریوں کو سمجھتے ہیں زبان سے تسلیم کریں یا نہ کریں۔تو یہ ایک عظیم احسان مجھے نظر آیا کہ وہ چھپی ہوئی محبت یعنی جس کا بہت سا حصہ چھپا ہوا تھا۔وہ میرے جانے سے ظاہر ہوا اور عجیب رنگ میں ظاہر ہوا۔گو پہلے بھی میں نے ایک دو جگہ بتایا ہے کہ سکنڈے نیویا کے باشندے جو ہیں وہ پبلک میں لوگوں کے سامنے اپنے جذبات کے اظہار کو اتنا معیوب سمجھتے ہیں کہ موت کو اس سے بہتر سمجھتے ہیں۔ہمارے ایک آنریری مبلغ ہیں ہمارے امام صاحب کہتے ہیں کہ وہ ہمارے پاس تھے کہ ان کے والد کی وفات کی خبر آئی تو ا