خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 880
خطبات ناصر جلد اول ۸۸۰ خطبہ جمعہ ۱۵ ستمبر ۱۹۶۷ء کہنے لگے کہ میں نے وہاں تین آرٹیکل اخباروں میں پڑھے۔پھر مجھے دلچسپی پیدا ہوئی اور میں نے پاکستان کے ایمبیسیڈر سے فون کر کے کچھ اور معلومات حاصل کیں اور اب مجھ کو ملنے کا شوق تھا۔میں نے جب ان کو ڈنمارک کے اخباروں کے کٹنگز دکھائے۔تو بے ساختہ ان کے منہ سے نکلا کہ بڑی پبلسٹی ہوئی ہے اور ایک ویکلی ہے اور با تصویر ہے ہمیں علم تھا کہ ڈنمارک میں کوئی ایسا گھر نہیں جہاں وہ اخبار نہ پہنچتا ہو اس نے پورا ایک صفحہ ہماری تصاویر اور نوٹوں کے لئے دیا۔انگلستان پہنچے۔پہلے لنڈن کے اخبارات نے خاموشی اختیار کی ہم گلاسگو چلے گئے دو تین دن بڑی مصروفیت کے تھے۔گلاسکو کے اخباروں نے انٹرویو لئے ، پریس کانفرنس ہوئی، تو اخباروں نے لکھا پھر راستے کے جو اخبار تھے ، انہوں نے لکھا۔پھر ان کو خیال آیا کہ ہم سے غلطی ہوئی ہے ہمیں صبر کرنا چاہیے تھا۔ٹائم لنڈن جس پر یہاں بھی بعض لوگوں کے دل میں حسد پیدا ہوا ہے۔مش نے بھی ایک لا یعنی نوٹ ” نوائے وقت میں شائع کروا دیا ہے اور وضاحت کو سننے کے لئے اب تیار نہیں خیر بہر حال یہ تو ضمنی بات ہوئی۔دنیا کے دو چار اخبار ہوں گے جنہیں ساری دنیا تو قیر کی نظر سے دیکھتی ہے، ان کی عزت اور احترام کرتی ہے ان کو وقعت دیتی ہے ان میں سے ایک اخبار ہے ”ٹائم لنڈن ہم ابھی واپس لنڈن نہیں پہنچے تھے کہ ہمارے پاس ان کا فون آیا کہ ہم آپ سے ایک خصوصی انٹرویو لینا چاہتے ہیں میں نے کہا بڑی اچھی بات ہے، میں لنڈن آ کے بتاؤں گا کہ کس دن اور کس وقت ؟؟ چنانچہ ان کا نمائندہ آیا۔اس کو میں نے خود ہی کہہ دیا کہ آج شام کو چائے ہمارے ساتھ پینا۔گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹے تک باتیں کرتا رہا اور پھر اس نے ٹائم لنڈن میں بڑا اچھا نوٹ دیا اور بجائے اس کے کہ ساری اسلامی دنیا خوش ہوتی۔ساری دنیا ویسے بڑی خوش ہوئی کہ یہ خیال نہیں کرنا چاہیے کہ اسلامی دنیا خوش نہیں ہوئی لیکن اسلامی دنیا میں م ش جیسے دو چار آدمی ایسے بھی ہیں جو خوش نہیں ہوتے اس سے اسلامی دنیا پر کوئی فرق نہیں پڑتا میں اتنی وضاحت کر دوں کہ بعض دفعہ ہمارے احمدی بھی کہہ دیتے ہیں اسراف کے رنگ میں کہ خوش نہیں ہوئے ، یہ غلط بات ہے۔میں آگے بتاؤں گا۔خوش ہوئے اور ہوتے ہیں، لیکن اس قسم کے آدمی ہمیشہ رہے اور ہمیشہ رہیں گے ان کی پرواہ نہیں کرنی چاہیے۔یہ اللہ تعالیٰ کا فضل