خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 879 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 879

خطبات ناصر جلد اول 129 خطبہ جمعہ ۱۵ رستمبر ۱۹۶۷ء کے الفاظ میں ہے وہ کسی اور کے الفاظ میں نہیں ہوسکتا۔تو جب اس نے وہ حوالہ نقل کر دیا میں بہت خوش ہوا اور یہاں بھی ہمارے بعض واقف اور دوسرے لوگ بھی ملے ہیں جب ان کو پتہ چلتا ہے کہ اس اخبار نے اتنا بڑا نوٹ دیا ہے تو وہ بڑے حیران ہوتے ہیں۔زیورک میں سارے اخباروں نے ہمارے متعلق نوٹ دیئے ، کوئی ایک اخبار نہیں تھا جو پیچھے رہ گیا ہوا ایسا معلوم ہوتا تھا کہ دوڑ لگی ہوئی ہے۔ہر ایک چاہتا تھا کہ میں دوسروں سے آگے نکلوں اور باتیں وہ بیان کروں جو وہاں کے مذہب کے، وہاں کے معاشرے کے اور وہاں کے اخلاق کے خلاف ہوں۔ہر وہ آدمی جس کے ہاتھ میں کوئی اخبار جاتا ہے اسے اللہ تعالیٰ کا یہ پیغام پہنچ گیا کہ میری طرف رجوع کرو اور میرے محبوب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں آؤ ورنہ ہلاک ہو جاؤ گے۔میں نے زیورک سے شروع کیا اور کوئی گھر ایسا نہیں جس میں کوئی اخبار پہنچتا ہو اور پھر اسے یہ پیغام نہ پہنچا ہو کیونکہ زیورک کا کوئی اخبار ایسا نہیں جس نے ہمارا یہ پیغام شائع نہ کیا ہو۔اسی طرح ہم ہمبرگ پہنچے وہاں چار اخبار چھپتے ہیں ایک ساری دنیا میں جاتا ہے تین وہاں کے مقامی ہیں۔جو اخبار ساری دنیا میں جاتا ہے وہ ٹائم لنڈن کے پایہ کا اخبار ہے اور ہمیں تو اس کی اتنی اہمیت کا پتہ نہیں تھا کراچی میں ہمارے ایک غیر احمدی عزیز ہیں وہ مجھے ملے وہاں کسی نے کہا تو ضرور ہو گا، لیکن حافظہ نے اسے یاد نہیں رکھا اور کچھ ہیں بھی وہ متعصب ، تو میں نے جب ان کے سامنے De Welt کا نام لیا اور کہا کہ یہ سارے جرمنی میں پڑھا جاتا ہے تو کہنے لگے سارے جرمنی میں نہیں ساری دنیا میں پڑھا جاتا ہے اور بہت بڑا فوٹو اور نیچے اچھا لمبا نوٹ اس میں ہمارے متعلق شائع ہوا اور جو دوسرے اخبار تھے انہوں نے بھی نوٹ دیئے۔پھر کوپن ہیگن میں گئے کوپن ہیگن میں ( جو ہمارے بعد کی اطلاع ہے ) تیس پینتیس اخبار اور بھی لکھ چکے ہیں۔افتتاح کے متعلق بھی اور اس پیغام کے متعلق بھی جو ان کے نام میں نے دیا تھا اور اس کے متعلق نوٹ بھی۔سویڈن کے ایمبیسڈر یہاں ہیں ان کو شوق پیدا ہوا کہ وہ مجھے ملیں، کہنے لگے کہ میں ان دنوں چھٹی پر تھا۔(وہاں سویڈن میں ) افتتاح ہمارا ہوا تھا ڈنمارک میں۔