خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 875
خطبات ناصر جلد اول ۸۷۵ خطبہ جمعہ ۱۵ رستمبر ۱۹۶۷ء بات سنتے ہیں ، انہوں نے کوشش کی اور ان سے انکار کر دیا گیا کہ ہم یہ انتظام نہیں کریں گے، تب اللہ تعالیٰ نے مجھے بتایا کہ تمہارے تو سارے انتظام نا کام ہو جائیں گے لیکن میں انتظام کر دوں گا۔چنانچہ جن باتوں سے ہمیں ڈرایا گیا تھا ان سے اُلٹ ہم نے وہاں دیکھا پتہ نہیں کیا ہوا۔ہمیں اسباب کا علم نہیں ہوا لیکن ہر وہ چیز جو ہم چاہتے تھے کہ ہو جائے۔اس سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ نے انتظام کر دیا تھا اس کے بعد حالانکہ (جیسا کہ میں نے بتایا ہے ) کہ چوہدری ظفر اللہ خان صاحب سے انکار کر دیا گیا ، کہہ دیا گیا تھا کہ ہم انتظام نہیں کر سکتے۔یہ تو ایک چھوٹی سی ظاہری مثال ہے جس سے ظاہر بین آنکھ بھی اندازہ لگا سکتی ہے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ ہمیں دراصل اپنے احسانوں کے نیچے دبا دینا چاہتا تھا وہ ہمیں ایک نئی قوم بنانا چاہتا تھا تا کہ ہم اپنی نئی ذمہ داریوں کو نبھانے کے قابل ہو سکیں۔تو پہلا سلسلہ احسانوں کا ، بشارتوں کا سلسلہ ہے جو بڑی کثرت سے جماعت پر کئے گئے اور ہم الفاظ میں اس کا شکر بجا نہیں لا سکتے ( جو شکر کرنے کے طریق ہیں میں ان کے متعلق بعد میں کچھ کہوں گا ) دوسرا سلسلہ اللہ تعالیٰ کے احسانوں کا یوں شروع ہوا کہ آج کل بعض وجوہات کی بنا پر تمام یورپ کے ممالک میں اسلام کے خلاف تعصب اپنی انتہاء کو پہنچا ہوا ہے وہ مسلمان کی شکل تک دیکھنا برداشت نہیں کرتے اور کئی بیچارے مسلمانوں پر ان ملکوں میں جہاں یہ بات بظاہر ناممکن نظر آتی ہے چھرے سے حملے بھی ہوئے۔تعصب اس حد تک پہنچا ہوا ہے کہ ہمارے بہت سے مبلغین نے مجھے مشورہ دیا تھا کہ بہتر یہ ہے کہ پریس کا نفرنس نہ بلائی جائے کیونکہ پتہ نہیں کس قسم کے تمسخر اور استہزا کے ساتھ وہ سوال کریں گے اور کیا اپنے اخباروں میں لکھ دیں گے کیونکہ اس وقت اس قسم کا تعصب ہے کہ وہ ہر قسم کا جھوٹ اسلام کے خلاف بولنے کے لئے تیار ہیں۔ان میں سے ہمارے ایک مبلغ بہت ہی زیادہ گھبرائے ہوئے تھے مجھے انہیں کہنا پڑا کہ تم فکر نہ کرو مجھ سے سوال ہوں گے میں نے جواب دینے ہیں تم خواہ مخواہ پریشان ہورہے ہوا نتظار کرو لیکن اللہ تعالیٰ نے ایسا تصرف کیا ان لوگوں کے دماغوں پر کہ جو لوگ کا نفرنس میں آتے تھے انہوں نے اس قسم کا کوئی سوال ہی نہیں کیا جن سے یہ لوگ ڈرتے تھے پھر طریق اتنا ادب اور احترام کا کہ جیسے کوئی احمدی