خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 859
خطبات ناصر جلد اوّل ۸۵۹ خطبہ جمعہ یکم ستمبر ۱۹۶۷ء میں اس حقیقت کو دہراتا چلا جاؤں گا۔جب تک کہ میں اپنے مقصد کو حاصل نہ کرلوں یا اس دنیا سے گذر نہ جاؤں) کہ ہر احمدی کو دنیا کا رہبر اور قائد اور استاد بننے کی اپنے اندر اہلیت پیدا کرنی پڑے گی اور پیدا کرنی چاہیے کیونکہ آج بھی دنیا کو ان سے کہیں زیادہ تعداد میں استادوں اور مبلغین کی ضرورت ہے جو آج ہمارے پاس ہیں لیکن وہ زمانہ آنے والا ہے کہ جب اس ضرورت کی ہماری موجودہ اہلیت کے ساتھ کوئی نسبت ہی نہ ہو گی بلکہ دنیا لاکھوں آدمی مانگے گی دنیا جماعت احمدیہ سے یہ کہے گی کہ ہم سیکھنے کے لئے تیار ہیں تم ہمیں آ کر سکھاتے کیوں نہیں؟ کیا جواب ہوگا آپ کے پاس اگر آپ ان کے مطالبات کو پورا کرنے کے لئے تیار نہیں ہوں گے؟ میں نے غور بھی کیا میں نے دعائیں بھی کیں اس کے متعلق اور اللہ تعالیٰ نے بڑے زور سے میرے دل میں ڈالا ہے کہ اگلے ہمیں تیس سال دنیا پر۔انسانیت پر اور جماعت پر بڑے نازک ہیں۔ایک نہایت ہی خطرناک عالمگیر تباہی کی خبر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے الہاماً دی ہے جس کے متعلق یہ بتایا گیا ہے کہ اگر وہ تباہی دنیا پر آگئی تو دنیا میں علاقے کے بعد علاقہ ایسا ہو گا کہ جہاں سے زندگی ختم ہو جائے گی۔پہلی دو عالمگیر جنگوں میں، نہ ایسا ہوا نہ ایسا ہونا ممکن تھا کچھ آدمی مارے گئے کچھ پرندے بھی مارے گئے ہوں گے کچھ چرندے بھی مارے گئے ہوں گے کچھ کیڑے مکوڑے بھی مارے گئے ہوں گے لیکن کوئی ایک علاقہ ایسا نہیں ہو سکتا تھا جہاں سے زندگی ختم ہو گئی ہو (سوائے دو استثناء کے جو جاپان پر دو ایٹم بم گرانے کے ہیں )۔لیکن تیسری عالمگیر تباہی کے متعلق یہ پیشگوئی واضح الفاظ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب میں موجود ہے کہ ایسے علاقے ہوں گے کہ جن میں زندگی کا خاتمہ ہو جائے گا پھر یہ بھی پیشگوئی ہے کہ اس عظیم ہلاکت کے بعد (اگر اس ہلاکت سے قبل یہ اقوام اسلام کی طرف اور اپنے پیدا کرنے والے اللہ کی طرف نہ آ گئیں ) اسلام بڑی کثرت سے دنیا میں پھیل جائے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو یہ نظارہ دکھایا گیا آپ نے دیکھا کہ روس میں اس قدر احمدی ہیں جس قدر کہ ریت کے ذرے ہوتے ہیں۔آپ نے فرمایا کہ ریت کے ذروں کی طرح میں نے وہاں احمدیوں کو دیکھا ہے۔