خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 851
خطبات ناصر جلد اوّل ۸۵۱ خطبہ جمعہ یکم ستمبر ۱۹۶۷ء ہوئے کہ مرکز میں آنا جانا ان کے لئے قریباً ناممکن ہے کبھی ساری عمر میں ایک دفعہ آجائیں مرکز میں تو اپنے آپ کو خوش قسمت سمجھیں لیکن اللہ تعالیٰ نے آسمانوں سے فرشتوں کو نازل کر کے ان کے دلوں میں اس قدر اور کچھ اس قسم کی تبدیلی پیدا کر دی ہے کہ یہ لوگ صحابہ رضوان اللہ علیہم کے نقش قدم پر چلنے والے ہمیں نظر آتے ہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لئے ان کے دلوں میں محبت کا بڑا مقام ہے اور ہونا بھی چاہیے کیونکہ آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرزند جلیل کی حیثیت میں مبعوث ہوئے اس لئے ان کے دل میں محبت کا شدید جذبہ پایا جاتا ہے۔میں ایک رات کھانے اور نمازوں سے فارغ ہونے کے بعد ہمبرگ کی مسجد میں بیٹھ گیا دو چار وہاں ہمارے پاکستانی احمدی تھے اور میرا خیال ہے کہ سات آٹھ وہاں کے جرمن احمدی مرد بیٹھے ہوئے تھے ( جرمن احمدی بہنیں بھی تھیں لیکن وہ ہماری مستورات کے پاس بیٹھی تھیں ) گویا مسجد میں قریباً دس بارہ کچھ پاکستانی اور زیادہ تر جرمن احمدی بیٹھے ہوئے تھے مجھے خیال آیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی ایک آیت ۱۸۶۸ میں الہام کی یعنی اليْسَ اللهُ بِكَافٍ عَبْدَه “ اور اسی وقت آپ نے ایک انگوٹھی بنائی تھی جس میں پتھر کا نگینہ ہے اور جس پر یہی الہام کندہ ہے اپنا ہاتھ اونچا کر کے حضور نے فرمایا کہ یہ وہ انگوٹھی ہے ) یہ بڑی برکت والی چیز ہے الہام بھی بڑا برکت والا ہے ہمارے پاکستانی احمدی تو الیسَ اللهُ بِكَافٍ عبده والی انگوٹھیاں کثرت سے پہنتے ہیں مجھے خیال آیا کہ اس کی برکتوں کا میں ان کے سامنے بھی ذکر کروں تا کہ ان کے ایمانوں میں تازگی پیدا ہو اس انگوٹھی کا نگینہ کچھ ہلتا ہے اس لئے میں اس کے اوپر کپڑا لپیٹے رکھتا ہوں تا کہ اس کی حفاظت رہے میں نے قیچی منگوائی اس کپڑے کو اُتارا اور میں نے ان کو بتایا کہ اس پتھر پر یہ الہام کندہ ہے پھر تذکرہ منگوایا اور اس میں سے وہ الہام ان کو دکھایا کہ اس سن میں یہ الہام ہوا تھا اس سال یہ انگوٹھی بنائی گئی تھی جو بڑی برکت والی ہے ہم اس سے برکتیں حاصل کرتے ہیں تم بھی اس سے برکت حاصل کرو اور میں نے وہ انگوٹھی اُتاری ان کو کہا کہ ہر ایک اس کو بوسہ دے۔اخیر انہوں نے جو پیار کیا وہ تو میرے کہنے سے کیا جو کپڑا کئی ماہ اس انگوٹھی پر رہا تھا اور جو اس کی برکت سے با برکت بن چکا تھا کپڑے کا وہ چھوٹا سا ٹکڑا میں نے ہاتھ میں پکڑا ہوا تھا میرے سامنے