خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 850
خطبات ناصر جلد اول ۸۵۰ خطبہ جمعہ یکم ستمبر ۱۹۶۷ء پھر انگلستان میں دوستوں سے ملنے کا موقع ملا جہاں اُردو بولنے والی ہندوستان اور پاکستان کے بعد سب سے بڑی جماعت ہے کئی ہزار احمدی اس وقت انگلستان میں موجود ہیں وہاں کے مقامی احمدی مسلمان اقلیت میں ہیں ہمارے زیادہ احمدی پاکستانی ہی ہیں اور میں نے ان کو توجہ بھی دلائی کہ آپ کوشش کریں کہ درجنوں کی بجائے ہزاروں لاکھوں مقامی باشندے مسلمان ہو جائیں۔وہاں کی قلبمی حالت جماعت کی بہت کچھ یہاں کی جماعتوں کی قلبی حالت سے ملتی جلتی ہے۔وہاں بھی بعض انگریز نواحمدی ایثار اور اخلاص کا ایک عجیب نمونہ دنیا کے سامنے پیش کر رہے ہیں جیسا کہ یورپ میں بسنے والے نو احمدی مسلمان پیش کر رہے ہیں۔جب میں انگلستان میں پڑھا کرتا تھا اس وقت انگلستان میں چند ایک احمدی پائے جاتے تھے ان میں سے بعض فوت ہو چکے ہیں ان میں سے اکثر ایسے تھے جن کی عقل کو اسلام نے اپیل کی یعنی اسلام کے دلائل اور براہین کے وہ قائل ہوئے اور اپنے مذہب یا لامذہبیت کو انہوں نے چھوڑا اور اسلام کو انہوں نے قبول کیا لیکن اس عقلی ایمان کے علاوہ ان کے دلوں میں اسلام کی محبت ( بشاشت ایمانی جسے کہا جاتا ہے ) وہ نہیں پائی جاتی تھی عقلا وہ تسلیم کرتے تھے کہ اسلام ایک سچا مذہب ہے کیونکہ اس کے دلائل اس قدر مضبوط ہیں کہ اس کے دلائل کا مقابلہ کوئی دوسرا مذہب نہیں کر سکتا لیکن حسن اور احسان کے جلوے جو ایک سچے مسلمان کو اسلام میں نظر آتے ہیں وہ ان پر ابھی جلوہ گر نہیں ہوئے تھے۔اس دفعہ جو میں وہاں گیا ہوں تو میں نے وہاں کی جماعتوں میں یہ حالت نہیں پائی۔ہر جگہ میں نے یہ محسوس کیا کہ اسلام کے دلائل نے ان کی عقلوں کو گھائل کیا اسلام کے حسن نے ان کی بصیرت اور بصارت کو خیرہ کیا اور ان کے دلوں میں اس قدر محبت اپنی پیدا کر دی ہے کہ اس سے زیادہ محبت تصور میں بھی نہیں آسکتی اور یہ احساس ان کے دلوں میں پایا جاتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات دنیا کے لئے ایک محسن اعظم کی حیثیت رکھتی ہے اسلام کے حسن اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے احسان کے وہ شکار ہیں اور اس کے نتیجہ میں آج وہ اتنی قربانی دینے والے ہیں کہ ( میں بعض مثالیں بیان کروں گا ) اس کی وجہ سے تم میں سے بعض کو شرم آجائے۔اتنی دور بیٹھے