خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 849
خطبات ناصر جلد اول ۸۴۹ خطبہ جمعہ یکم ستمبر ۱۹۶۷ء ابا حضور کہتے ہیں ) ابا حضور کا جسم دبلا پتلا اور چہرہ بھی ویسا ہے جیسا کہ جوانی کی تصاویر میں دکھائی دیتا ہے اور آپ کا قدا با حضور سے کافی لمبا ہے اتنا کہ ابا حضور آپ کے شانوں تک آرہے ہیں اور میں سوچ رہی ہوں کہ آپ تو ابا حضور کے برابر ہوا کرتے تھے اب اتنے لمبے کس طرح ہو گئے؟ ابا حضور آپ کو کچھ ہدایات دے رہے ہیں اور آپ کے پاس کھڑے لوگوں سے آپ کی تعریف کرتے جارہے ہیں اور وہ جملے جو آنکھ کھلنے تک یاد تھے اب یاد نہیں رہے پھر دور سے کوئی آواز دیتا ہے ( شاید کوئی ڈرائیور ہے ) کہ گاڑی کا وقت ہو گیا ہے۔میں سوچتی ہوں کہ آپ نے تو گاڑی پر جانا ہی نہ تھا کاروں سے کراچی جانا تھا۔وہ آواز سن کر آپ چلنے کی تیاری کرتے ہیں تو ابا حضور آپ کا ہاتھ پکڑ کر بڑی تیزی اور بیتابی کے ساتھ جھٹکے سے آپ کو اپنی طرف کھینچتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ”گلے تو مل لو اور آپ فوراً اس طرح ابا حضور کے سینے کے ساتھ لگ جاتے ہیں جیسے کہ وہ مقناطیس ہوں۔اور ابا حضور بڑی بے تابی اور پیار کے ساتھ آپ کا چہرہ ، پیشانی اور گردن چوم رہے ہیں۔آنکھوں میں آنسو ہیں شاید بہہ بھی رہے ہیں یہ اچھی طرح یاد نہیں۔آپ کے ایک طرف ہوکر امی کالا برقعہ پہن کر کھڑی ہیں۔میں انہیں آواز دے کر کہتی ہوں۔امی ! مجھے مل لیں امی اس کھڑکی کے نیچے آتی ہیں جہاں میں کھڑی ہوں اور امی کا قد بھی اتنا لمبا ہے کہ دوسری منزل کی کھڑکی تک پہنچ رہا ہے وہیں سے وہ مجھے گلے لگ کر پیار کرتی ہیں پھر سب کا روں میں بیٹھ کر چل پڑتے ہیں اس وقت میری آنکھ کھل گئی۔یہ تینوں خوا ہیں (ایک تو قریباً کشفی نظارہ ہے ) بہت ہی مبارک ہیں اور ان کے مطابق ہی ہم نے اپنے ساتھ اللہ تعالیٰ کے سلوک کو پایا۔اس دورہ میں جیسا کہ میں نے بتایا ہے ہمارے تینوں جرمن مشنز کے پاکستانی احمدی اور جرمن احمدی مرد اور عورتیں مجھ سے ملے۔پھر سوئٹزر لینڈ میں ہمارا تبلیغی مرکز ہے وہاں بھی خاصی جماعت ہے مقامیوں کی ہمبرگ کا بھی یہی حال ہے پھر کوپن ہیگن میں سویڈن، ناروے اور ڈنمارک کے لوگ جمع ہوئے ہوئے تھے اور ہمارے مبلغ بھی تھے تیس اور چالیس کے درمیان تو کھانے پر ہی ہوتے۔