خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 837
خطبات ناصر جلد اول وو ۸۳۷ خطبه جمعه ۲۵ را گست ۱۹۶۷ء تھا اور میں نے اسے یہ جواب دیا تھا کہ دلوں کو فتح کر کے۔اس جواب پر ایک عورت نمائندہ بڑے وقار سے کہنے لگی کہ ان دلوں کو لے کر آپ کریں گے کیا ؟ میں نے اسے جواب دیا کہ پیدا کرنے والے رب کے قدموں میں جا رکھیں گے اس جواب کا اس پر اس قدراثر ہوا کہ وہ پریس کانفرنس کے بعد بھی کافی دیر وہاں ٹھہری رہی۔اس نے ہمیں نماز پڑھتے دیکھا۔اس نے کہا میں واپس جا کر ایک مضمون لکھوں گی۔خیر وہاں بھی پریس انٹرویو ہوا اور بڑا اچھا ہوا اور تمام اخبارات میں وہ چھپا۔پریس کانفرنس سے پہلے مسجد کے افتتاح کی جو تصویر میں چھپیں ان میں ایک اخبار نے یہ کیا کہ نماز کی تصویر دے کر اس کے نیچے یہ نوٹ دے دیا کہ یہ لوگ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی عبادت کر رہے ہیں اگلے دن پادریوں کے ایک گروپ نے مجھ سے انٹرویو کا وقت لیا ہوا تھا اس دن صبح ہی وہ اخبار آ گیا میں نے دوستوں کو یہ ہدایت دی کہ جب پادری آئیں تو یہ اخبار میرے ہاتھ میں دے دیں چنانچہ میٹنگ سے پہلے وہ اخبار میرے ہاتھ میں دے دیا گیا اس گروپ کا جو لیڈر تھا میں نے اس سے کہا کہ اس فقرہ کا ترجمہ کر کے مجھے بتاؤ مجھے اس کے مفہوم کا علم تو تھا لیکن میں اس کے منہ سے کہلوانا چاہتا تھا شرمندگی سے اس کا منہ سرخ ہو گیا اور اس نے کہا ہم یہ نوٹ پہلے دیکھ چکے ہیں اور بڑے شرمندہ ہیں میں نے کہا اب دوصورتیں ہیں یا تو میں اس کی تردید کروں اور یا تم اس کی تردید کرو اگر میں اس کی تردید کروں گا تو اس سے بدمزگی پیدا ہوگی کیونکہ میں تو اپنے رنگ میں اس کی تردید کروں گا۔چنانچہ اس پادری نے اس کی تردید شائع کرائی ایک لمبا نوٹ لکھا گیا جو اس اخبار میں شائع ہو گیا اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے ایک اور موقعہ ہمارے نظریہ کو پھیلانے اور اسلام سے تعارف کرانے کا پیدا کر دیا بہر حال جیسا کہ میں نے بتایا ہے وہاں کی ہر اخبار نے ہمارے متعلق لکھا اور بعض اخبارات نے ایک ایک صفحہ اس کے لئے دیا۔پھر جیسا کہ میں نے اشارہ بتایا ہے کہ ہمارے ملکوں میں تو رواج نہیں لیکن اس ملک میں یہ رواج ہے کہ باہر سے آنے والے ایسے آدمیوں کو جن کو وہ بڑا سمجھتے ہیں لارڈ میئر ریسپشن دیتا ہے اور اس کا یہ مقصد ہوتا ہے کہ وہ اسے اپنے شہر میں خوش آمدید کہہ رہے ہوتے ہیں۔کوپن ہیگن میں دوسرے ملکوں کے رواج کی طرح صرف ایک کارپوریشن نہیں جس کے آگے مختلف یونٹ