خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 836 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 836

خطبات ناصر جلد اوّل ۸۳۶ خطبہ جمعہ ۲۵ /اگست ۱۹۶۷ء سے نکلے ہوئے ہوتے ہیں پھر بھی ۶۰، ۷۰ لاکھ کے درمیان لوگوں نے ہمیں ٹیلی ویژن پر دیکھ لیا اور جو باتیں وہاں ہوئی وہ یہی تھیں کہ اسلام لاؤ اور اپنے اللہ کی معرفت حاصل کرو۔یہ پیغام براڈ کاسٹ بھی ہو گیا اور پھر سارے اخباروں میں بھی آگیا اخباروں کی وجہ سے شہر میں ہمارا اس طرح چرچہ ہوا کہ ہمارے لئے باہر نکلنا مشکل ہو گیا دو ایک بار ہم بازار میں گئے تو جہاں تک نظر جاتی تھی مرد عورتیں اور بچے اپنا کام کاج چھوڑ کر ہماری طرف دیکھنے لگ جاتے تھے اور سینکڑوں کیمرے نکل آتے تھے۔جس دوکان میں بھی جاؤ سودے کے متعلق بات بعد میں ہوتی پہلے اخبار ہمارے سامنے کر دیا جاتا تھا اور اس کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ وہ ہمیں جانتے ہیں اور اس بات کا اظہار وہ بڑی خوشی اور بشاشت سے کرتے تھے۔میرا بتانے کا یہ مطلب ہے کہ ہر گھر میں ہمارا یہ پیغام پہنچ گیا کہ اسلام لا و یا تباہ ہو جاؤ کیونکہ میری باتوں کا خلاصہ یہی تھا کہ اپنے ربّ سے تعلق پیدا کرو ورنہ تباہی تمہارے سامنے ہے۔اس کے بعد ہم کو پن ہیگن گئے پہلے اس کے کہ میں کچھ کوپن ہیگن کے متعلق بتاؤں میں ایک واقعہ بتانا چاہتا ہوں زیورک میں جو ٹیم ٹیلی ویژن کے لئے انٹرویو لینے آئی تھی وہ تین اشخاص پر مشتمل تھی ان میں سے دو مرد اور ایک عورت تھی جو عورت تھی اس نے کہا میں ریکارڈ کرنے سے پہلے آپ سے بعض سوال کر کے جواب لینا چاہتی ہوں کیونکہ پروگرام چھوٹا ہے اور سوال زیادہ ہیں میں جو جواب اچھے سمجھوں گی انہیں ٹیلی ویژن کے لئے ریکارڈ کرلوں گی میں نے کہا ٹھیک ہے اس نے ایک سوال یہ کیا کہ آپ ہمارے ملک میں اسلام کس طرح پھیلائیں گے۔میں نے اسے فوری طور پر یہ جواب دیا کہ دلوں کو فتح کر کے اس کو یہ جواب اتنا اچھا لگا کہ وہ کہنے لگی میں یہ فقرہ ضرور ٹیلی ویژن پر لانا چاہتی ہوں میں نے کہا ٹھیک ہے اس کے بعد انہوں نے ٹیلی ویژن کے لئے ریل (فلم) تیار کی منظر یہ تھا کہ پیچھے مسجد تھی اور سامنے میں تھا۔میں جو کچھ بول رہا تھا وہ اس فلم پر آ گیا اور نشر ہوا۔کوپن ہیگن کی پریس کانفرنس میں بھی ایک نمائندہ نے یہ سوال کر دیا کہ آپ ہمارے ملک میں اسلام کیسے پھیلائیں گے میں نے اسے کہا کہ بالکل یہی سوال زیورک میں ایک عورت نے کیا