خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 831 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 831

خطبات ناصر جلد اول خطبہ جمعہ ۲۵ /اگست ۱۹۶۷ء آتا ہے یا نہیں۔پہلی کا نفرنس تھی اور وہ بڑے ڈرے ہوئے تھے کہ پتہ نہیں پریس والے کیا کرتے ہیں وہ میری وجہ سے بھی زیادہ ڈرے ہوئے تھے وہ سمجھتے تھے کہ اگر انہوں نے کوئی نامناسب بات کہہ دی تو ہمیں غصہ آئے گا اور ہمیں تکلیف ہوگی غرض میری محبت اور پیار کی وجہ سے بھی انہیں خوف تھا اور یہ بھی ڈر تھا کہ ہمارے مشن کو کامیابی ہوتی ہے یا نہیں۔لیکن ہوا یہ کہ سب اخباروں کے نمائندے آئے اور نہایت آرام کے ساتھ سوا گھنٹہ کے قریب پریس کانفرنس جاری رہی۔وہ لوگ سوال کرتے رہے اور میں ان کو جواب دیتا رہا۔بعض دفعہ وہ سیاسی سوال بھی کر دیتے تھے اور میں انہیں کہہ دیتا تھا کہ میں سیاسی آدمی نہیں ہوں آپ مجھ سے مذہب کی باتیں کریں۔اس اخبار کا نمائندہ جو اسلام کے خلاف لکھتا رہتا تھا اور اس کے حق میں اس نے کبھی کوئی لفظ نہیں لکھا تھا ایک نوجوان تھا اس کو مجھ سے دلچسپی پیدا ہوئی۔اللہ تعالیٰ کے فرشتوں نے اس کے دل کی تاروں کو ہلا یا پر یس کا نفرنس ختم ہو گئی لیکن وہ نوجوان اس کے بعد بھی پندرہ منٹ کے قریب مجھ سے باتیں کرتا رہا آخر میں اس نے کہا میں آپ سے ایک آخری سوال پوچھنا چاہتا ہوں آپ مجھے بتائیں کہ سلسلہ عالیہ احمدیہ کے بانی کی بعثت کا مقصد کیا ہے (اب دیکھو اللہ تعالیٰ ہی ہمارے لئے خوشی کے سامان پیدا کرتا ہے اس کی بشارتیں اور رحمتیں ہم نے دیکھیں چھوٹی چھوٹی باتوں میں اس کی رحمت کا ہاتھ نظر آتا تھا۔) جب اس نوجوان نے سوال کیا تو اسی وقت اس کا جواب بھی میرے ذہن میں آ گیا۔میں نے اس سے کہا میں آپ کی بعثت کا مقصد تمہیں اپنے الفاظ میں کیوں بتاؤں میں بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ کے الفاظ میں ہی تمہیں بتاتا ہوں کہ ان کی بعثت کا مقصد کیا تھا۔آپ نے لکھا ہے کہ میں دلائل کے ساتھ اس صلیب کو توڑنے کے لئے آیا ہوں جس نے مسیح کی ہڈیوں کو تو ڑا اور اس کے جسم کو زخمی کیا۔وہ نوجوان اچھل پڑا اور کہنے لگا کہ مجھے حوالہ چاہیے۔اب وہ شخص تو احمدی نہیں تھا اسے کیا غرض تھی کہ وہ اس حوالہ کو شائع کرتا لیکن اس نے کہا مجھے اصل حوالہ چاہیے۔اب دیکھو خدائے عَلامُ الْغُيُوبِ کو تو پتہ تھا کہ اس حوالہ کا مطالبہ ہونا ہے میں نے یہاں مضمون لکھنے شروع کئے تو میں نے بعض حوالے نکلوائے تھے بعد میں میں نے مضمون تو تیار نہ کئے اور نہ میں تیار کر سکا کیونکہ میری طبیعت میں انقباض پیدا ہو گیا تھا لیکن میں نے چوہدری محمد علی صاحب