خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 830
خطبات ناصر جلد اول ۸۳۰ خطبه جمعه ۲۵ را گست ۱۹۶۷ء دیئے تھے اور تصویریں بھی دی تھیں مجھے قطعاً امید نہیں تھی کہ کوئی ایک اخبار بھی تصویر کیساتھ خبر شائع کرے گا لیکن اللہ تعالیٰ کا فضل ہوا کہ وہاں بھی ہمارے متعلق خبریں شائع ہوگئیں اور اسلام کا پیغام قریباً ہر شخص کے کان تک پہنچ گیا۔یہاں میں ایک اور واقعہ بیان کرنا چاہتا ہوں وہاں سے یہ مطالبہ آرہا تھا کہ آپ پہلے مضمون لکھیں اور ہمیں بھیج دیں ہم اس کا ترجمہ کر دیں گے میں بڑا مصروف آدمی ہوں میرے لئے مضمون لکھنا بھی بڑا مشکل تھا اور پھر وقت پر مضمون لکھنا تو اور بھی مشکل تھا لیکن جب مجھ پر زیادہ دباؤ پڑا تو میں نے لکھنا شروع کر دیا۔پہلا مضمون میں نے فرینکفورٹ کے لئے لکھا لیکن مجھے اپنا لکھا ہوا مضمون بھی پسند نہ آیا میں نے اسے ایک طرف رکھ دیا پھر میں نے ایک دوست کو کہا کہ میں ڈکٹیٹ کراتا ہوں تم لکھتے جاؤ چنانچہ میں نے ایک مضمون ڈکٹیٹ کرایا۔لیکن مجھے وہ بھی پسند نہ آیا میں نے اسے بھی چھوڑ دیا یہ مضامین تو میں نے کوشش کر کے لکھے تھے۔لیکن دوسری صبح کو میں بیٹھا تو آمد شروع ہو گئی فقرہ پر فقرہ آتا چلا گیا لیکن بجائے اس کے کہ وہ پندرہ منٹ کا مضمون بنتا وه ۴۵ منٹ کا مضمون بن گیا اس میں بڑا زور تھا، دلائل تھے اور وہ بڑا اثر رکھنے والا مضمون تھا۔غرض اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑی اچھی تقریر تیار ہوگئی یہاں میں نے اس کا ترجمہ کروایا جب چیک کیا تو بعض نے کہا یہ مضمون لمبا ہے میں نے کہا اس کو چھوٹا کر دو لیکن مجھے کہا گیا کہ یہ چھوٹا نہیں ہوسکتا اگر اسے چھوٹا کیا گیا تو اس کا زور ختم ہو جائے گا میں نے کہا اچھا رہنے دو وہاں جا کے دیکھیں گے کیا ہوتا ہے وہاں جا کے وہ مضمون جب مبلغین کو دکھایا تو وہ کہنے لگے کہ ان ملکوں کے حالات ایسے ہیں کہ ان میں یہ مضمون نہیں پڑھا جانا چاہیے کیونکہ یہ بڑا تیز ہے میں نے کہا ٹھیک ہے چنانچہ میں نے اسے رکھ لیا اور کہا اللہ تعالیٰ جو سمجھائے گا وہ کہتے چلے جائیں گے۔زیورک پہنچے تو وہاں پہلی پریس کانفرس ہوئی وہاں ایک اخبار بہت پائے کا ہے اس کے متعلق ہمارے مبلغ چوہدری مشتاق احمد صاحب باجوہ کی رپورٹ ہے کہ یہ ہمیشہ اسلام کے خلاف لکھتا ہے لیکن جب میں اس کی تردید کرتا ہوں تو یہ اُسے شائع نہیں کرتا۔ہمارے خلاف لکھتا چلا جاتا ہے لیکن تردید میں ایک لفظ بھی شائع نہیں کرتا اور پتہ نہیں کہ اس کا نمائندہ پر یس کا نفرنس میں