خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 829 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 829

خطبات ناصر جلد اول ۸۲۹ خطبه جمعه ۲۵ را گست ۱۹۶۷ء اخباروں میں ہمارے متعلق کوئی خبر نہیں آئے گی اور پریس کا نفرنس بھی کوئی نہیں تھی۔صرف ایک ری سپشن تھا جس میں پریس کے نمائندے بھی مدعو تھے اور انکے علاوہ کوئی پادری تھا، کوئی سکالر تھا، کوئی وزیر تھا، کوئی ہائی کورٹ کا جج تھا۔غرض اس قسم کے تیس چالیس آدمی تھے جو مدعو تھے۔مختصری پارٹی تھی اس موقع پر کچھ باتیں ہوئیں مختصری تقریر ہوئی جس کا جرمن میں ترجمہ ہوا یہاں الفضل میں وہ تقریر چھپی ہے بڑی مختصر وہ تقریر تھی لیکن اس قسم کی تقریر کو بھی وہاں اڑ ہائی گنے وقت لگ جاتا ہے( میں نے وہاں انگریزی اور اردو دونوں زبانیں استعمال کی ہیں ) پہلے میں ایک فقرہ کہتا پھر ترجمہ کرنے والا اس کا جرمن میں ترجمہ کرتا پھر میں اگلا فقرہ کہتا۔اگر تقریر لکھی ہوئی نہ ہو تو بڑی مشکل پیش آتی ہے میرا وہ مضمون لکھا ہوا تھا لیکن بعض جگہ میں نے بغیر لکھے بھی تقریر کی ہے۔بہر حال اگر تقریر لکھی ہوئی نہ ہو تو بڑی مشکل پیش آتی ہے یعنی ایک فقرہ کے بعد انتظار کرنا اور پھر اس کا اگلے فقرے کے ساتھ جوڑ لگانا اور یہ بھی دیکھنا کہ ترجمہ صحیح ہوا ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ مجھے سمجھ دے دیتا تھا گو میں جرمن نہیں جانتا تھا لیکن مجھے اس بات کا پتہ لگ جاتا تھا کہ ترجمہ کرنے والے نے فلاں حصے کا ترجمہ نہیں کیا اور میں کہہ دیتا تھا کہ تم فلاں حصہ کا ترجمہ چھوڑ گئے ہو تم اس کا ترجمہ کرو اس سے وہ لوگ سمجھتے تھے کہ میں بڑی اچھی زبان جانتا ہوں لیکن یہ بات نہیں تھی اللہ تعالیٰ ہی مدد کر دیتا تھا ویسے میں تھوڑی سی جرمن زبان جانتا بھی ہوں۔بہر حال وہاں تقریر میں بہت دیر لگتی ہے۔وہاں ہمارے ایک بڑے ہی مخلص نوجوان محمود اسماعیل زولش ہیں وہ میری تقریر کا جرمن میں ترجمہ کرتے تھے۔جب میں وہاں کے احمدیوں کے حالات بتاؤں گا تو میں بتاؤں گا کہ وہاں اللہ تعالیٰ کس قسم کی جماعت تیار کر رہا ہے اور اس جماعت سے مل کر اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے نہایت خوشی کے سامان پیدا کئے اور آپ کے لئے بھی یہ بات غور طلب ہے کہ وہ اب آپ کے پہلو بہ پہلو کھڑے ہو گئے ہیں اب یا تو آپ آگے نکلیں گے اور یا پھر وہ آگے نکل جائیں گے اور خدا تعالیٰ کسی کا رشتہ دار نہیں اگر وہ آگے نکل گئے تو پھر اللہ تعالیٰ ان کے ہاتھ میں انتظام دے دے گا کیونکہ وہ جس کو اہل دیکھتا ہے اسکو خدمت کا موقع دے دیتا ہے۔خیر وہاں ایک مختصرسی ریسپشن ہوئی اور اگلے دن ہم نے دیکھا کہ وہاں کے ہر اخبار نے رپورٹ شائع کی ہوئی ہے بڑے اچھے نوٹ