خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 828 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 828

خطبات ناصر جلد اول ۸۲۸ خطبه جمعه ۲۵ اگست ۱۹۶۷ء نئی بات ہے۔غرض ان کے اندر اسلام کے تعصب کو بھڑ کا یا گیا ہے۔ہمارے اپنے مبلغ پر یس کا نفرنس سے اتنے خائف تھے کہ آپ ان کے خوف کا اندازہ بھی نہیں لگا سکتے اور مجھے کہنا پڑا تم کیوں ڈرتے ہو۔تم تسلی رکھو سوال مجھ سے ہونا ہے اور جواب بھی میں نے دینا ہے۔میں انہیں خود ہی سنبھال لوں گا اور میں نے انہیں کیا سنبھالنا تھا میں اللہ تعالیٰ سے صرف دعا ہی کر سکتا تھا اور میں دعائیں کرتا تھا۔چنانچہ کسی جگہ بھی پریس کے کسی نمائندہ نے ادب اور احترام کو نہیں چھوڑا۔میرا ان پر کیا حق تھا مجھے وہ کیا جانتے تھے۔میرے عاجزی اور تواضع کے مقام کو تو میرا رب ہی جانتا تھا۔غرض میرے رب نے ایسا انتظام کر دیا تھا کہ اس عاجز اور لاشئی محض سے سب ادب و احترام کے ساتھ پیش آئے میرے سامنے کسی نے شوخی نہیں دکھائی۔کسی نے میری طرف غلط بات منسوب نہیں کی۔کسی نے میری آدھی بات رپورٹ نہیں کی۔جب میری بات رپورٹ کی ہے تو پوری کی ہے اور یہ عام نقشہ ہے ساری پریس رپورٹ اور نقشہ یہ اللہ تعالیٰ کے بہت بڑے فضل کا آئینہ دار ہے۔سب سے پہلے ہم فرینکفورٹ پہنچے تھے۔وہاں ہمارا سب سے کم قیام تھا یعنی صرف ایک دن گوہم وہاں دو راتیں سوئے لیکن دن ایک ہی ٹھہرے۔ہفتہ کی شام کو مغرب کے قریب وہاں پہنچے اور پیر کی صبح کو ہم زیورک کے لئے روانہ ہو گئے۔ہمیں کچھ پروگرام بدلنا پڑا۔پہلے زیورک کا پروگرام تھا پھر بعض حالات کی وجہ سے ہم نے وہ جہاز لیا جو ماسکو کے راستہ جانا تھا جہاز تو وہ بھی پی۔آئی۔اے کا تھا لیکن اس کے ذریعہ جانے میں پہلے فرنیکفورٹ آتا تھا۔پہلا جہاز بھی پی۔آئی۔اے کا تھا لیکن اس پر جانے میں پہلے زیورک آتا تھا۔پہلے انہوں نے ہفتہ کی شام کو ری سپشن (Reception) رکھ دی تھی۔دعوت نامے بھجوائے جاچکے تھے۔ان ملکوں میں یہ بڑی مشکل ہے کہ ایک آدمی کو مثلاً ہفتہ کے لئے دعوت نامے ملے اور عین وقت پر اسے یہ کہا جائے کہ تم ہفتہ کی بجائے اتوار کو آؤ اس طرح ان کا کسی دعوت میں آنا بہت مشکل ہے لیکن بعض حالات ہی ایسے پیش آگئے تھے کہ ہمیں وہ پروگرام بدلنا پڑا اور ری سپشن (Reception) ہفتہ کی بجائے اتوار کو رکھی گئی اور میرا خیال تھا کہ یہاں اخبار والوں نے ہمارا کوئی نوٹس نہیں لینا۔