خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 807
خطبات ناصر جلد اوّل ۸۰۷ خطبہ جمعہ ۱۱ اگست ۱۹۶۷ء لاکھوں حفاظ قرآن مجید دنیا میں موجود ہیں جو کہ اس کی حفاظت کا ایک بین ثبوت ہیں۔لاکھوں مسلمانوں نے خدا تعالیٰ کے ساتھ زندہ تعلق قائم کر کے اسلامی تعلیمات دنیا میں قائم رکھیں۔خدا تعالیٰ نے انہیں اپنی جناب سے اسرار غیبیہ اور قرآنی نکات معرفت سے بہرہ اندوز کیا ان مسلمانوں نے اخلاقی و روحانی مسائل کو اپنے اپنے زمانہ میں حل کیا۔ہمارے زمانہ میں حضرت سید و مولا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک غلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسیہ کے طفیل ہماری اصلاح کے لئے مبعوث ہوئے۔آپ نے اپنی تحریروں اور کلمات طیبات سے یہ ثابت فرمایا کہ تعلیم اسلام کامل و اکمل ہے اور اس کا مقابلہ دنیا کے کسی دوسرے مذہب کی تعلیم نہیں کر سکتی۔زندہ نشانات اور آسمانی بشارات جو آپ پر ہر روز تائید اسلام میں نازل ہوتے رہے ان سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اسلام ہی ایک زندہ مذہب ہے۔باقی تمام مذاہب ان زندہ نشانوں سے عاری ہیں۔یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ مردہ مذاہب ہیں ہم آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ پر عمل پیرا ہوکر خدا تعالیٰ کا چہرہ دیکھ سکتے ہیں اور تجلیات الہیہ کا ذاتی طور پر مشاہدہ کر سکتے ہیں۔ایک زندہ مذہب کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ وہ کامل و اکمل ہو جس میں انسان اپنے طور پر کوئی اصلاح نہ کر سکے۔اسلام نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ وہی درحقیقت ایک کامل مذہب ہے جیسا کہ خدا تعالیٰ نے فرمایا:۔الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا - (المائدة : ۴) اس قسم کا دعویٰ کسی اور مذہب نے نہیں کیا۔نہ ہی تو رات نے اور نہ ہی انجیل نے اس بات کا دعویٰ کیا ہے۔عہد نامہ قدیم میں یہ الہی وعدہ ہے :۔میں ان کے لئے ان ہی کے بھائیوں میں سے تیری مانند ایک نبی بر پاکروں گا اور اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالوں گا اور جو کچھ میں اسے حکم دوں گا وہی وہ ان سے کہے گا اور