خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 787
خطبات ناصر جلد اوّل ZAZ خطبہ جمعہ ۷ جولائی ۱۹۶۷ء انسان اس زندگی میں اس کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔مختلف رنگ ہیں جو نکل رہے ہیں دیوار میں سے پھوٹ پھوٹ کر ، نہ کوئی بلب ہے وہاں اور نہ کوئی ٹیوب ہے اور اس خوبصورتی میں میں محو ہو جاتا ہوں اتنی خوبصورتی ہے۔میں تفصیل میں نہیں جاتا۔یعنی جب پہلی نظر اس پر پڑی ہے تو میں محو ہو گیا ہوں خوبصورتی میں۔کچھ عرصہ کے بعد پھر میں نے اس کی تفصیل میں جانا شروع کیا تو پہلی چیز جو میرے سامنے نمایاں ہوئی وہ یہ تھی کہ سامنے بالکل اس بلندی پر جو دوسری منزل کی چھت کے قریب ہے بہت خوبصورت پھول جو پہلے نظر آ رہے تھے وہ اُبھرے ہوئے تھے تو پہلے ہی لیکن توجہ نے انہیں اور اُبھار دیا اور میں نے دیکھا کہ وہاں پورے اس کی چوڑائی میں جو قریباً اتنی تھی جتنی یہ سامنے کی دیوار ہے۔اس کے اوپر لکھا ہوا ہے الیسَ اللهُ بِكَافٍ عَبْدَی اور مختلف رنگ ہیں جیسا کہ میں نے بتایا ہے اس کے بیچ سے پھوٹ رہے ہیں۔اس کے بعد میں نے زیادہ غور کرنا شروع کیا خوبصورتی کی تفصیل پر ، تو میں نے دیکھا (ویسے میں مختصر کر رہا ہوں کیونکہ دیر ہوگئی ہے بعض حصہ عام آپ کو بتانے کے لئے تا کہ آپ کو دعا کی طرف زیادہ توجہ ہو ) کہ وہ سارے خوبصورت پھول سے جو ہیں ، وہ سارے شعر ہیں جن کو لکھا اس طرح گیا ہے۔سبز رنگ کی روشنی ان میں سے نکل رہی ہے کہ وہ پھول نظر آتے ہیں پہلی نظر میں ، لیکن ہیں وہ شعر۔جب میں نے غور کیا۔مجھے یاد نہیں رہا کوئی شعر لیکن مجھے یہ یاد ہے کہ میں نے دو چار شعر پڑھے ہیں جب میں نے پڑھے تو مجھے یہ محسوس ہوا کہ یہ تو میرا سہرا ہے۔شادی کے موقع پر جو سہرا کہا جاتا ہے۔وہ ساری دیوار کے اوپر کئی سو شعر لکھا ہوا ہے اور سارا سہرا ہے اور میں دل میں حیران ہوتا ہوں اور اس کی تعبیر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ غیر متوقع حالات میں خوشخبریوں کے سامان پیدا کرے گا۔میں دل میں سوچتا ہوں کہ یہ عجیب لوگ ہیں انہوں نے مجھے بتایا ہی نہیں اور میرا یہ انتظام کر دیا ہے یہاں اور سہرا بھی وہاں لکھ دیا اور سارے پہ سجاد یا اور فنکشن کر دیا۔یہ کیا انہوں نے کیا ہے؟ یہ عجیب بات ہے کہ نہ کوئی مشورہ نہ کچھ اور یہ ہو گیا ہے کیا۔تو اس کے بعد میں نے اور غور کیا ہے تو میں نے دیکھا کہ دائیں طرف کا برج اوپر سے نیچے تک نہایت خوبصورتی کے ساتھ سجا ہوا تھا اور جس کے ہر ابھار اور پھول کی شکل میں سے روشنی