خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 785
خطبات ناصر جلد اوّل ۷۸۵ خطبہ جمعہ ۷ جولائی ۱۹۶۷ء جب آسمان کا پانی خشک ہو جاتا ہے تو زمین کا پانی بھی ساتھ ہی خشک ہو جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ یہ بھی سبق دینا چاہتا ہے کہ تم اپنی عقلوں سے خدا تعالیٰ کا قرب حاصل نہیں کر سکتے۔خدا کے قرب کے حصول کے لئے تمہیں آسمانی پانی کی ضرورت ہے اور یہ آسمانی پانی آج محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرزند جلیل کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کی طرف بھیجا ہے۔یہ کہنا کہ ہم آسمانی پانی کے محتاج نہیں کیونکہ ہماری عقلمیں ہی ہماری سب بھلائی کا سب سامان پیدا کرسکتی ہیں اس سے زیادہ حماقت کی کوئی بات نہیں اور یہ دیہات کے واقعات بھی ثابت کر رہے ہیں آسمانی پانی خشک ہوا ساتھ ہی زمین کا پانی بھی خشک ہو گیا۔زلزلے ہیں ، آتش فشاں پہاڑ ہیں ، بیماریاں ہیں، قحط ہیں، ہزار قسم کی بلائیں ہیں جودنیا پر نازل ہو رہی ہیں اور تباہی کا جو مرکزی نقطہ ہے اس کی طرف جارہی ہے۔یہ ایک قانون قدرت ہے آہستہ آہستہ مینٹل ٹینشن کرتا ہے ہر چیز۔تو یہ تباہی کے واقعات جو ہیں ان کے اندر شدت پیدا ہوتی چلی جارہی ہے اور تباہی کے ان واقعات کا رُخ اس مرکزی نقطہ کی طرف ہے جو تیسری عالمگیر تباہی کی شکل میں دنیا پر ظاہر ہونی ہے جس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی پیشگوئی ہے۔اگر ہم انسان سے اور انسانیت سے محبت رکھتے ہیں ان کے ہمدرد اور خیر خواہ ہیں تو ہمارا فرض ہے کہ بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اور بغیر کسی خوف کے بغیر کسی مزاحمت کے ان باتوں کو ان کے سامنے رکھیں ورنہ اللہ تعالیٰ کے غضب کے مستحق ہوں گے۔تو ارادہ ہے کہ ان حالات میں جو پیدا ہو گئے ہیں یعنی تعصب اور بھی بڑھ گیا ہے۔اس قسم کی صاف صاف باتیں ان لوگوں کو بتائی جائیں تا کہ ان پر اتمام حجت ہو جائے۔میں نے بعض دفعہ سوچا ہے کہ شاید ایسی عالمگیر تباہی اس وجہ سے رکی ہوئی ہو کہ ہم نے ابھی تک ان قوموں پر اتمام حجت نہیں کی اور خدا تعالیٰ نہیں چاہتا کہ قبل اس کے کہ اتمام حجت ہو ان کو اپنی گرفت میں لے لے تو بڑی کثرت کے ساتھ اور بڑی تضرع کے ساتھ اور عاجزی کے ساتھ اور انتہائی ہمدردی اور خیر خواہی کے جذبہ میں یہ دعا کرنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ان کی آنکھیں کھولے اور ان کو سمجھ عطا کرے اور عقل دے ان کو اور وہ صداقت کو پہنچانے لگیں اور خدا تعالیٰ کے غضب سے بچ جائیں کیونکہ آج خدا تعالیٰ کے غضب سے بچانے کے لئے اور کوئی کشتی نہیں ہے۔سوا اس کشتی