خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 782 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 782

خطبات ناصر جلد اوّل ۷۸۲ خطبہ جمعہ ۷ جولائی ۱۹۶۷ء نہیں لنگڑے لولے، وہ اپنے علاقوں کو چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں اور دوسری جگہ پناہ لے رہے ہیں۔سوچ کے بھی انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔تو وہ تو بھول گئے سارا کچھ لیکن لفظ جہاد سے چڑ گئے ہیں۔تو ٹھیک ہے تمہارے چڑنے سے کیا حاصل ہو گا۔تم آج چند ہزار یا کم و بیش سمجھیں کہ زخمی اور جو وہاں مارے گئے میدان جنگ میں یا پھر جو شہری زخمی ہوئے ، یا مارے گئے ایک لاکھ کے لگ بھگ ہوں گے۔تو ایک لاکھ تو کوئی چیز ہی نہیں اس تباہی کے مقابلہ میں جو تمہاری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے تمہارے سامنے کھڑی ہے۔جس کے متعلق یہ کہا گیا ہے کہ تم جو مرضی ہے کر لو اپنی طرف سے اس کو ٹال نہیں سکتے کوئی مصنوعی خدا تمہاری مددکو نہیں آئے گا کوئی ماں جایا جو ہے ، اس کو یہ ہمت نہیں پڑے گی کہ وہ آکے تمہیں اس تباہی سے بچالے اور تمہاری یہ تعلی کہ خدا نہیں ہے ، اور سب کچھ ہم ہی ہیں اور ہمیں سب کچھ طاقت ہے یہ تعلی بھی تمہارے کام نہیں آئے گی خداز در آور حملوں کے ساتھ اپنے وجود اور توحید کو آج منوانا چاہتا ہے اور وہ منوا کے رہے گا۔صرف ایک صورت ہے بچنے کی انبیاء کی اصل غرض تبشیر ہے بشارتیں دینا ہے ، ان کو جوڑنے کے لئے ان کو راہ راست پر لانے کے لئے انداری پیشگوئیاں کی جاتی ہیں۔ایک صورت ہے صرف بچنے کی اور وہ یہ ہے کہ وہ اصلاح کو قبول کریں اسلامی تعلیم کی حقانیت کو ان کے دل تسلیم کرنے لگیں اور آسمان کا نور جو ہے وہ ان کے سینوں کو اور انکی آنکھوں کو منور کر دے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو برا بھلا کہنے کی بجائے آپ پر درود بھیجنے لگیں۔اس لئے کہ وہ حقیقت محسن اعظم ہے دنیا کا۔تو پھر وہ محسن اعظم اپنی شفاعت کے نتیجہ میں تمہیں بچا سکتا ہے۔(مغربی اقوام کو ) اس کے علاوہ حفاظت کا کوئی ذریعہ ان کے پاس نہیں ہے۔احمق ہیں وہ لوگ اگر وہ اپنے آپ کو محفوظ سمجھتے ہیں۔ان باتوں کا انکے کانوں میں ڈالا جانا ضروری ہے اور یہی میں بتا رہا ہوں کہ یہی مقصد ہے میرے سفر کا میں کھل کر ان سے بات کرنا چاہتا ہوں ایک دونوٹ تو میں نے تیار کئے ان میں یہ ہوگا کہ بعد میں بعض ایسے قلبی سامان پیدا ہو گئے کہ دل ہی نہیں کچھ اور نوٹ تیار کرنے کا۔میں نے سمجھا وہی ہو گا جو کچھ ہوگا گھبرانے کی بات نہیں تسکین ہو گئی لیکن کھول کے انہیں بتانا چاہیے کہ کیا