خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 779
خطبات ناصر جلد اوّل خطبہ جمعہ ۷ جولائی ۱۹۶۷ء کو طاقت سمجھتی ہیں یعنی دنیا میں صرف ان کا اقتدار ہے اور جو وہ چاہیں باقی اقوام سے منواتی ہیں۔اور دوسرے کسی ملک یا قوم کو یہ طاقت ہی نہیں کہ ان کے مقابل پر کھڑا ہو جائے لیکن آپ نے فرمایا کہ مشرقی طاقتیں اُفق سیاست اور اُفق انسانیت پر اُبھرنے والی ہیں۔۱۹۰۲ء میں آپ نے یہ فرمایا اور یہ بتانے کے لئے کہ یہ میری پیشگوئی کے مطابق اُبھرنے والی ہیں۔آپ نے ساتھ ہی یہ فرمایا کہ جو مشرقی طاقتیں اُبھرنے والی ہیں ان کے صاحب اقتدار ہونے کے بعد اور ان کی وجہ سے کوریا کی حالت نازک ہو جائے گی۔تو ان مشرقی طاقتوں کے ابھر نے کوکوریا کی نازک حالت کے ساتھ وابستہ کر دیا اس وقت یہ کسی کے وہم میں بھی نہ آ سکتا تھا۔پہلے جاپان ایک مشرقی طاقت کی حیثیت میں اُفق انسانیت پر اُبھرا، پھر چین اُبھرا اور ہر دو طاقتیں جو ہیں وہ ایسی ہیں کہ ان کی وجہ سے کوریا بیچارے کو مصیبت اُٹھانی پڑی۔اس کی حالت زار رہی ، اور نازک رہی اور لمبا عرصہ رہی۔وہ بڑی عبرت ناک داستان ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے پڑھے لکھے احمدی بچوں اور دوستوں کو چاہیے کہ انسائیکلو پیڈیا اور دوسری ایسی کتابیں جن میں آرٹیکلز ہوں ، اس کے متعلق ، یا جوکوریا کی نازک حالت کی تفصیل بیان کرتی ہوں ان کا مطالعہ کریں۔آدمی حیران ہوتا ہے کہ جس کو دنیا نہیں جانتی تھی۔وہ دنیا کی خبریں دے رہا ہے اور خبریں بھی ایسی جنہوں نے تاریخ انسانی کا رخ بدل دیا ہے اور وہ پیشگوئیاں جنہوں نے آگے جا کر تاریخ انسانیت کا رخ بدلنا تھا۔پہلی یہ بات بتائی اس سلسلہ میں ، اس رنگ میں میں نے سوچا ہے۔بڑا لمبا سلسلہ ہے لیکن بڑے اہم واقعات ہیں یہ۔دو مشرقی طاقتوں کا اُبھر آنا اور مغرب کو تسلیم کرنے پر مجبور ہو جانا کہ یہ طاقت ہیں اور ہمارے مقابلہ کی طاقت ہیں۔انسان حیران ہوتا ہے کہ وہ چین جو کسی شمار میں نہیں تھا ۱۹۰۲ء میں، جس کی وجہ سے کوریا کی نازک حالت ہوئی اب جو اس وقت جو سیاست دنیا کی چل رہی ہے۔امریکہ (یونائیٹڈ سٹیٹس آف امیریکا ) اور روس کو آپس میں قریب لانے کی وجہ ہی یہ چین ہے۔تو یہ دونوں ملک سمجھتے ہیں کہ اگر ہم لڑ پڑے تو پھر دنیا پر چین کی حکومت ہوگی۔اس واسطے بہتر یہ ہے کہ ہم نہ لڑیں آسمان سے کیا مصیبت آئے گی یہ تو وقت آنے پر پتہ چلے گا تو بہر حال عجیب واقعہ رونما ہونا ہے اور بالکل ان ہونا ناممکن کوئی کھڑے ہو کر بڑے سے بڑا فلاسفر بھی اگر یہ بات کہتا اور کہتا