خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 766 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 766

خطبات ناصر جلد اوّل خطبہ جمعہ ۲۳ /جون ۱۹۶۷ء اور کھانا یہ دونوں باتیں عند الشرع حرام ہیں اور آتش بازی چلوانا اور کنجروں اور ڈوموں کو دینا یہ سب حرام مطلق ہے ناحق روپیہ ضائع جاتا ہے گناہ سر پر چڑھتا ہے صرف اتنا حکم ہے کہ نکاح کرنے والا بعد نکاح کے ولیمہ کرے یعنی چند دوستوں کو کھانا پکا کر کھلا دیوے۔(۱۰) ہمارے گھروں میں شریعت کی پابندی کی بہت سستی ہے ( یہ ایک بنیادی چیز ہے جس کی طرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے توجہ دلائی ہے ) بعض عورتیں زکوۃ دینے کے لائق اور بہت ساز یوران کے پاس ہے وہ زکوۃ نہیں دیتیں۔بعض عورتیں نماز روزہ کے ادا کرنے میں بہت کو تا ہی رکھتی ہیں بعض عورتیں شرک کی رسمیں بجالاتی ہیں جیسے چیچک کی پوجا بعض فرضی بیویوں کی پوجا کرتی ہیں بعض ایسی نیازیں دیتی ہیں جن میں یہ شرط لگا دیتی ہیں کہ عورتیں کھاویں کوئی مرد نہ کھاوے یا کوئی حقہ نوش نہ کھاوے بعض جمعرات کی چوکی بھرتی ہیں مگر یاد رکھنا چاہیے کہ یہ سب شیطانی طریق ہیں ہم صرف خالص اللہ کے لئے ان لوگوں کو نصیحت کرتے ہیں کہ آؤ خدا تعالیٰ سے ڈرو ورنہ مرنے کے بعد ذلت اور رسوائی سے سخت عذاب میں پڑو گے اور اس غضب الہی میں مبتلا ہو جاؤ گے جس کا انتہا نہیں۔وَالسَّلامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدی۔خاکسار غلام احمد از قادیان بعض حصے اس میں سے میں نے چھوڑ دیئے ہیں بہر حال اس وقت جیسا کہ میں نے بتایا ہے رسوم تو بہت سی دنیا میں پھیلی ہوئی ہیں اور ان میں سے بعض احمدی گھرانوں میں بھی یا گھس گئی ہیں یا گھس رہی ہیں اور اس تفصیل میں جانا میرے لئے ممکن نہیں میں نے چند مہینے ہوئے مختلف علاقوں سے مربیوں کے ذریعہ بدعات کے متعلق اور بد رسوم کے متعلق معلومات حاصل کی تھیں اور کسی وقت اللہ تعالیٰ نے توفیق عطا کی تو بعض رسوم کے متعلق تفصیل سے بھی بیان کروں گا لیکن اس وقت اصولی طور پر ہر گھرانے کو یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ میں ہر گھر کے دروازے پر کھڑے ہو کر اور ہر گھرانہ کو مخاطب کر کے بد رسوم کے خلاف جہاد کا اعلان کرتا ہوں۔اور جو احمدی گھرانہ بھی آج کے بعد ان چیزوں سے پر ہیز نہیں کرے گا اور ہماری اصلاحی کوششوں کے باوجود اصلاح کی