خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 767 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 767

خطبات ناصر جلد اول 272 خطبہ جمعہ ۲۳ / جون ۱۹۶۷ء طرف متوجہ نہیں ہو گا وہ یہ یادر کھے کہ خدا اور اس کے رسول اور اس کی جماعت کو اس کی کچھ پرواہ نہیں ہے وہ اس طرح جماعت سے نکال کے باہر پھینک دیا جائے گا جس طرح دودھ سے مکھی۔پس قبل اس کے کہ خدا کا عذاب کسی قہری رنگ میں آپ پر وارد ہو یا اس کا قہر جماعتی نظام کی تعزیر کے رنگ میں آپ پر وارد ہوا اپنی اصلاح کی فکر کرو اور خدا سے ڈرو اور اس دن کے عذاب سے بچو کہ جس دن کا ایک لحظہ کا عذاب بھی ساری عمر کی لذتوں کے مقابلہ میں ایسا ہی ہے کہ اگر یہ لذتیں اور عمریں قربان کر دی جائیں اور انسان اس سے بچ سکے تو تب بھی وہ مہنگا سودا نہیں سستا سودا ہے۔پس آج میں اس مختصر سے خطبہ میں ہر احمدی کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ میں نے اللہ تعالیٰ کے منشا کے مطابق اور جماعت احمدیہ میں اس پاکیزگی کو قائم کرنے کے لئے جس پاکیزگی کے قیام کے لئے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام دنیا کی طرف مبعوث ہوئے تھے ہر بدعت اور بدرسم کے خلاف جہاد کا اعلان کر دیا ہے اور میں امید رکھتا ہوں کہ آپ سب میرے ساتھ اس جہاد میں شریک ہوں گے اور اپنے گھروں کو پاک کرنے کے لئے شیطانی وسوسوں کی سب را ہوں کو اپنے گھروں پر بند کر دیں گے دعاؤں کے ذریعہ اور کوشش کے ذریعہ اور جد و جہد کے ذریعہ اور حقیقتاً جو جہاد کے معنی ہیں اس جہاد کے ذریعہ اور صرف اس غرض سے کہ خدا تعالیٰ کی تو حید دنیا میں قائم ہو، ہمارے گھروں میں قائم ہو، ہمارے دلوں میں قائم ہو ، ہماری عورتوں اور بچوں کے دلوں میں قائم ہو اور اس غرض سے کہ شیطان کے لئے ہمارے دروازے ہمیشہ کے لئے بند کر دیئے جائیں۔اللہ تعالیٰ مجھے بھی اور آپ کو بھی ہر قسم کی نیکیوں کی توفیق عطا فرمائے۔(روز نامه الفضل ربوہ ۲ جولائی ۱۹۶۷ء صفحہ ۱ تا ۵)