خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 765
خطبات ناصر جلد اوّل خطبہ جمعہ ۲۳ /جون ۱۹۶۷ء واہ واہ کریں کہ فلاں شخص نے مرنے پر اچھی کرتوت دکھلائی اچھا نام پیدا کیا۔سو یہ سب شیطانی طریق ہیں جن سے تو بہ کر نا لا زم ہے۔(۴) اگر کسی عورت کا خاوند مر جائے تو گو وہ عورت جوان ہی ہو دوسرا خاوند کرنا ایسا برا جانتی ہے جیسا کوئی بڑا بھارا گناہ ہوتا ہے اور تمام عمر بیوہ اور را نڈ رہ کر یہ خیال کرتی ہے کہ میں نے بڑے ثواب کا کام کیا ہے اور پاک دامن بیوی ہوگئی ہوں۔حالانکہ اس کے لئے بیوہ رہنا سخت گناہ کی بات ہے عورتوں کے لئے بیوہ ہونے کی حالت میں خاوند کر لینا نہایت ثواب کی بات ہے ایسی عورت حقیقت میں بڑی نیک بخت اور ولی ہے جو بیوہ ہونے کی حالت میں بُرے خیالات سے ڈر کر کسی سے نکاح کر لے اور نابکار عورتوں کے لعن طعن سے نہ ڈرے۔ایسی عورتیں جو خدا اور رسول کے حکم سے روکتی ہیں خود لعنتی اور شیطان کی چیلیاں ہیں جن کے ذریعہ سے شیطان اپنا کام چلاتا ہے جس عورت کو اللہ، رسول پیارا ہے اس کو چاہیے کہ بیوہ ہونے کے بعد کوئی ایماندار اور نیک بخت خاوند تلاش کرے اور یاد رکھے کہ خاوند کی خدمت میں مشغول رہنا بیوہ ہونے کی حالت کے وظائف سے صد ہا درجہ بہتر ہے۔(۸) ہماری قوم میں یہ بھی ایک نہایت بد رسم ہے کہ دوسری قوم کولڑ کی دینا پسند نہیں کرتے بلکہ حتی الوسع لینا بھی پسند نہیں کرتے یہ سراسر تکبر اور نخوت کا طریق ہے جو سراسر احکام شریعت کے برخلاف ہے بنی آدم سب خدا تعالیٰ کے بندے ہیں رشتہ ناطہ میں صرف یہ دیکھنا چاہیے کہ جس سے نکاح کیا جاتا ہے وہ نیک بخت اور نیک وضع آدمی ہے اور کسی ایسی آفت میں مبتلا نہیں جو موجب فتنہ ہو اور یا درکھنا چاہیے کہ اسلام میں قوموں کا کچھ بھی لحاظ نہیں۔صرف تقویٰ اور نیک بختی کا لحاظ ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ انْقَكُم یعنی تم میں سے خدا تعالیٰ کے نزدیک زیادہ تر بزرگ وہی ہے جو زیادہ تر پرہیز گار ہے۔(۹) ہماری قوم میں یہ بھی ایک بد رسم ہے کہ شادیوں میں صد ہاروپیہ کا فضول خرچ ہوتا ہے سو یا درکھنا چاہیے کہ شیخی اور بڑائی کے طور پر برادری میں بھا جی تقسیم کرنا اور اس کا دینا