خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 62 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 62

خطبات ناصر جلد اول ۶۲ خطبه جمعه ۲۴؍دسمبر ۱۹۶۵ء د و دو تیسری بات جو بیان ہوئی ہے۔وہ فلیصمہ ہے کہ اس مہینے کے روزے رکھے۔یہ ایک حکم ہے۔کسی کو سمجھ آئے یا نہ آئے اس پر عمل کرنا ضروری ہے۔کیونکہ مسلمان کا اتنا تو ایمان ضرور ہوتا ہے کہ قرآن کریم کو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا ہے۔اور اس میں روزے رکھنے کا حکم ہے۔اس لئے روزے رکھنے چاہئیں۔چوتھی بات یہ کہ جو شخص سفر پر ہو یا بیمار ہو تو وہ اتنے دن کے روزے بعد میں رکھے۔یہاں یہ نہیں فرمایا کہ جو سفر پر ہو یا بیمار ہو اور وہ روزے نہ رکھ سکے تب وہ ان روزوں کو پورا کرے۔تو ان الفاظ سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص غلطی سے بیماری میں روزہ رکھ لیتا ہے یا سفر میں روزہ رکھ لیتا ہے تو قرآن کریم کی اس آیت پر تبھی وہ کار بند رہ سکتا ہے کہ ان روزوں کے باوجود کسی اور وقت میں روزے رکھے۔کیونکہ قرآن کریم نے تو یہ کہا ہی نہیں کہ روزے چھوٹیں تب اور وقت میں روزے رکھو۔قرآن کریم نے تو صرف یہ فرمایا ہے کہ جو دن رمضان کے ایسے آئیں جن میں تم بیمار ہو یا سفر میں ہو تو ان دنوں کے روزے تم نے دوسرے دنوں میں رکھنے ہیں۔مگر بہا نہ بجو بھی نہیں بننا چاہیے بات یہ ہے کہ سفر کے متعلق بعض لوگ کہہ دیتے ہیں ” جی آج کل دے سفردا کی اے۔بڑا آرام ہے ریل وچ بیٹھے ایتھوں اوتھے پہنچ گئے، لیکن اگر روزہ رکھنا عبادت ہے۔تو عبادت خواہ جونسی بھی ہو۔اسے ہم نے اس کی پوری شرائط کے مطابق ادا کرنا ہے۔مثلاً قرآن کریم کا پڑھنا، نوافل ادا کرنا، رات کو جاگنا ، دن کو بھو کے اور پیاسے رہنا۔پھر بری عادتوں کو چھوڑ نا اور کئی نیکیوں کے کرنے کا اپنے رب سے وعدہ کرنا وغیرہ کئی چیزیں ہیں جن کا تعلق رمضان کے مہینے سے ہے۔سو اگر رمضان کی عبادت کما حقہ ہم نے ادا کرنی ہے تو یقینی بات ہے کہ چاہے ریل کا سفر ہو۔یا ہوائی جہاز کا ہم اس عبادت کو سفر میں یا بیماری میں کما حقہ ادا نہیں کر سکتے۔ایک شخص بیماری کی وجہ سے مثلاً نوافل ادا نہیں کر سکتا اور نہ ہی رات کو دعا کرنے کا موقع پاتا ہے۔تو ایک طرح اس نے اس عبادت سے پوری طرح فائدہ نہ اٹھا یا صرف بھوکا پیاسا رہنا ہی تو روزے کا مقصد نہیں کہ صبح صبح کسی کو اس کے گھر والے اٹھا ئیں۔یا سوئے سوئے اس کے منہ دودھ کا پیالہ یا بارلکس کا ایک گلاس ڈال دیں اور پھر وہ لیٹ جائے اور سارا دن سوتا رہے اور پھر