خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 63
خطبات ناصر جلد اول ۶۳ خطبه جمعه ۲۴؍دسمبر ۱۹۶۵ء شام کے وقت اس کو افطاری کے لئے اٹھا دیا جائے۔یہ کوئی روزہ نہیں نہ یہ رمضان کی عبادت کہلائے گی بہر حال بہانہ بھی نہیں کرنا چاہیے کہ کسی طرح روزے کو چھوڑ دیا جائے۔بیماری کے متعلق تو بہانہ بنانا آسان ہے اس لئے بڑی احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے یہ صرف ڈاکٹر ہی فیصلہ دے سکتا ہے کہ یہ بیماری ایسی ہے کہ جس کی وجہ سے روزہ چھوڑا جائے۔بعض بیمار ایسے ہوتے ہیں کہ بظاہر چنگے بھلے معلوم ہوتے ہیں چلتے پھرتے بھی ہیں لیکن ڈاکٹر یہ فیصلہ دے دیتا ہے کہ وہ روزہ نہ رکھیں۔مثلاً ایک شخص بلڈ پریشر کا بیمار ہے۔اور ڈاکٹر کے نزدیک اس کا روزہ رکھنا اس کے لئے خطرناک ثابت ہو حالانکہ وہ چلتا پھرتا ہوگا۔باتیں بھی کرتا ہوگا۔اسی طرح بعض ایسی بیماریاں بھی ہو سکتی ہیں کہ ڈاکٹر یہ فیصلہ دے کہ اس بیماری میں روزہ رکھنا مضر نہیں بلکہ مفید ہوگا۔پس ہمیں بہانہ بنا کر روزہ نہ چھوڑنا چاہیے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ سے تو کوئی چیز مخفی نہیں اور نہ کسی کی حالت چھپی ہوئی ہے۔ہم اس کے ساتھ فریب یا چالا کی سے کام نہیں لے سکتے۔دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں رمضان سے جو کل شروع ہو گا اور اس کی برکات سے زیادہ سے زیادہ حصہ لینے کی توفیق بخشے اور جب اس کی رحمت جوش میں آئے۔تو ہمارے گناہوں کی طرف وہ نہ دیکھے۔بلکہ اپنی رحمت کے جوش میں ہم پر رحمت کے بعد رحمت فضل کے بعد فضل اور برکت کے بعد برکت نازل کرتا چلا جائے اور وہ ہمیں توفیق دے کہ ہم اس کی عبادت پر استقامت کے ساتھ قائم رہیں اور ہمیں ثبات قدم عطا فرمائے اور ایک دفعہ ہمارے دلوں میں اپنی محبت کی چنگاری جگا کر پھر اسے کبھی نہ بجھنے دے بلکہ یہ آگ بڑھتی ہی چلی جائے۔اے اللہ ! ایسا ہی کر ! آمین۔روزنامه الفضل ربوه ۱۹ جنوری ۱۹۶۶ ، صفحه ۲ تا ۵)