خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 759
خطبات ناصر جلد اول ۷۵۹ خطبہ جمعہ ۲۳ / جون ۱۹۶۷ء زبانوں پر درود جاری ہو جائے اور تمام ملکوں کی فضا نعرہ ہائے تکبیر اور درود سے گونجنے لگے اور وہ فیصلے جو آسمان پر ہو چکے ہیں زمین پر جاری ہو جائیں۔پس میری درخواست ہے تمام احباب جماعت سے اپنے بھائیوں سے بھی اور بہنوں سے بھی، بڑوں سے بھی اور چھوٹے بچوں سے بھی کہ وہ ان دنوں خاص طور پر دعا کریں کہ اگر یہ سفر مقدر ہو تو اللہ تعالیٰ پوری طرح اسے بابرکت کر دے اور زیادہ سے زیادہ فائدہ اسلام کو اس سفر کے ذریعہ سے ہو اور اس عاجز اور کم مایہ انسان کی زبان میں ایسی برکت اور تاثیر رکھے کہ خدا کی توحید کے جو بول میں وہاں بولوں وہ لوگوں کے دلوں پر اثر کرنے والے ہوں اور میری ہر حرکت اور سکون کا اثر ان کے اوپر ہو اور ان کے دل اپنے رب کی طرف اور قرآن کریم کی طرف اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اور اسلام کی طرف متوجہ ہونے لگیں اور غفلت کے جو پر دے ان کی آنکھوں اور ان کے دلوں اور ان کی عقلوں پر پڑے ہوئے ہیں خدا ان پردوں کو اُٹھا دے اور خدا کا حسن اور اس کا جلال نمایاں ہو کر ان کی آنکھوں کے سامنے ، بصارت اور بصیرت کے سامنے چمکنے لگے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حسین چہرہ ان کے سامنے کچھ اس شان کے ساتھ ظاہر ہو جائے کہ وہ تمام دوسرے حسنوں کو بھول جائیں اور اسی کے ہوکر رہ جائیں۔پس بہت دعائیں کریں بہت دعائیں کریں کہ اللہ تعالیٰ اس سفر کو مبارک کرے اور اللہ تعالیٰ میری غیر حاضری میں بھی جماعت کو ہر فتنہ سے محفوظ رکھے وہی سب کام بنانے والا ہے۔لیکن دل جہاں آپ کی جدائی سے غم محسوس کرتا ہے وہاں یہ خیال بھی آتا ہے کہ ایسے موقعہ پر بعض منافق فتنے بھی پیدا کیا کرتے ہیں تو جماعت کے ہر فرد کا یہ فرض ہے کہ وہ ایسے منافقوں کو فو را د بادے۔میرے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ایسے موقعوں پر بعض منافق طبع فتنہ پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اگر شروع میں ہی ان کو اس رنگ میں سمجھایا جائے کہ یہ جماعت خدا کے فضل سے اتنی مضبوط ہے کہ تمہارے فتنوں سے متاثر نہیں ہوگی، اگر تم باز نہ آئے تو تمہیں سزا دینے والے بھی یہاں موجود ہیں تو پھر یہاں تک نوبت نہیں پہنچتی کہ ضرور ایسے لوگوں کو سزا دی جائے ان کو سمجھ آجاتی ہے کہ ہماری دال اس قوم میں گلتی نہیں خدا تعالیٰ کے فضل سے چوکس جماعت ہے قربانی