خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 747 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 747

خطبات ناصر جلد اول ۷۴۷ خطبہ جمعہ ۱۶ / جون ۱۹۶۷ء جب ہم اس بات کا جو پہلی آیت میں بیان ہوئی ہے ( یعنی رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولًا منْهُم ) تجزیہ کرتے ہیں اور سیاق و سباق کو سامنے رکھ کر اور ضمیر کو ظاہر کر کے دیکھتے ہیں تو اس کے یہ معنی ہماری سمجھ میں آتے ہیں کہ ابراہیم اور اسمعیل علیھما السلام کی دعا رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولًا منھم کا یہ مفہوم ہے کہ اے ابراہیم اور اسمعیل کے رب جن کے ذریعہ سے تو نے از سر نو تعمیر کعبہ کروائی ہے اور اپنے معزز گھر کی حرمت کا اعلان کیا ہے تو اس بیت حرام میں رہنے والوں میں سے ایک عظیم روح کو کھڑا کر۔اس کو اپنی ربوبیت میں لے۔اسے مصطفی اور مجتبی بنا اور اپنے انتہائی قرب سے اس کو نواز اور ایک کامل اور مکمل شریعت دے کر اپنے رسول اور کامل مقتدا کی حیثیت میں اسے دنیا کی طرف بھیج تا وہ بنی نوع انسان کو اللہ رب العالمین کی طرف بلائے اور توحید خالص پر انہیں قائم کرے۔اللہ تعالیٰ نے اس دعا کو قبول فرمایا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے دنیا میں یہ منادی کروائی إنَّمَا أُمِرْتُ أَنْ أَعْبُدَ رَبَّ هَذِهِ الْبَلْدَةِ الَّذِي حَرَّمَهَا ابراہیم اور اسمعیل علیہما السلام کی دعا قبول ہوئی اور مجھے رب العالمین نے حکم دیا ہے کہ میں اس بلد حرام ، اس بیت اللہ کے رب کی عبادت کو اپنے کمال تک پہنچا کر ایک عبد کامل کی شکل میں ظاہر ہو کر بنی نوع انسان کو اللہ ، رب کعبہ ، رب بلد حرام کی طرف بلاؤں۔اس ہستی کی طرف ( وَلَهُ كُلُّ شَيْءٍ ) جو کامل قدرتوں والی ہے اور تمام اسمائے حسنیٰ سے متصف ہے۔جو چاہتی ہے وہ ہستی کرتی ہے دنیا کی کوئی طاقت اس کے مقابل نہیں ٹھہر سکتی اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں الْمُسْلِمُونَ کے گروہ میں شامل ہو کر ایک مسلم کا کامل نمونہ دنیا کے سامنے پیش کروں۔غرض وہاں ابراہیم اور ان کی نسل کے منہ سے یہ دعا نکلوائی اور قرآن کریم نے اسے محفوظ کیا اور یہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے دنیا میں یہ منادی کروائی کہ اس بلد حرام کے رب کی عبادت کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور ابراہیمی دعاؤں کے نتیجہ میں میں آج دنیا کی ہدایت کے لئے کھڑا ہوں۔دوسری اور تیسری اور چوتھی بات جو یہاں بیان ہوئی تھی ، وہ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ أَيْتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَبَ وَالْحِكْمَةَ میں بیان ہوئی تھی یعنی ایک عبد کامل ظاہر ہوگا اور عبد کامل کے ظہور کے ساتھ دنیا