خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 746 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 746

خطبات ناصر جلد اول ۷۴۶ گے اور زندہ خدا اور زندہ نبی اور زندہ شریعت سے ان کا تعلق ہوگا۔خطبہ جمعہ ۱۶ جون ۱۹۶۷ء یہ مقصد بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پورا ہوا ہے جیسا کہ خود قرآن کریم نے اس کا دعویٰ کیا ہے جس پر میں ابھی روشنی ڈالوں گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں:۔وو دیکھو! ابراہیم علیہ السلام نے ایک دعا کی تھی کہ اس کی اولاد میں سے عرب میں ایک نبی ہو۔پھر کیا وہ اسی وقت قبول ہو گئی ؟ ابراہیم کے بعد ایک عرصہ دراز تک کسی کو خیال بھی نہیں آیا کہ اس دعا کا کیا اثر ہوا۔لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کی صورت میں وہ دعا پوری ہوئی اور پھر کس شان کے ساتھ پوری ہوئی۔اس آیہ کریمہ میں پانچ باتوں کا ذکر ہے:۔اوّل :۔عبد کامل کے ظہور کا۔دوسرے :۔آیات بینات کے لامتناہی سلسلہ کا 56 تیسرے:۔کامل شریعت کے نزول اور قیامت تک اس کے قائم رہنے کا۔چوتھے :۔احکام شریعت کی حکمت بیان کرنے کا اور پانچویں :۔یہ بتایا گیا ہے کہ اس کے نتیجہ میں قدوسیوں کی ایک جماعت قیامت تک پیدا ہوتی رہے گی۔قرآن کریم کے متعدد مقامات پر یہ دعوی کیا گیا ہے کہ ان ابراہیمی دعاؤں کے نتیجہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی ہے۔اس وقت میں سورۂ نمل کی چند آیات اپنے دوستوں کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔إِنَّمَا أُمِرْتُ أَنْ أَعْبُدَ رَبَّ هَذِهِ الْبَلْدَةِ الَّذِى حَرَّمَهَا وَلَهُ كُلُّ شَيْءٍ وَأُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ ج مِنَ الْمُسْلِمِينَ - وَ اَنْ اَتْلُوا الْقُرْآنَ فَمَنِ اهْتَدَى فَإِنَّمَا يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ ۚ وَمَنْ ضَلَّ فَقُلْ اِنَّمَا أَنَا مِنَ الْمُنْذِرِينَ - وَ قُلِ الْحَمْدُ لِلَّهِ سَيُرِيكُمُ ايْتِهِ فَتَعْرِفُونَهَا ۖ وَ مَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا 199196 تَعْمَلُونَ۔(النمل: ۹۲ تا ۹۴)