خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 743 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 743

خطبات ناصر جلد اوّل ۷۴۳ خطبہ جمعہ ۹/جون ۱۹۶۷ء ہے روحانی رفعتوں کو حاصل کرو اور استغفار اور تو بہ کے ذریعہ سے ان کو حاصل کرلو۔دوسری جگہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :۔اس تمام تفصیل سے ظاہر ہے کہ استغفار کی درخواست کے اصل معنی یہی ہیں کہ وہ اس لئے نہیں ہوتی کہ کوئی حق فوت ہو گیا ہے بلکہ اس خواہش سے ہوتی ہے کہ کوئی حق فوت نہ ہو اور انسانی فطرت اپنے تئیں کمزور دیکھ کر طبعاً خدا سے طاقت طلب کرتی ہے۔۔اور یہ اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ انسان اعلیٰ درجہ کے مقام عصمت پر اور مرتبہ شفاعت پر تب ہی پہنچ سکتا ہے کہ جب اپنی کمزوری کے روکنے کے لئے اور نیز دوسروں کو گناہ کی زہر سے نجات دینے کے لئے ہر دم اور ہر آن دعا مانگتا رہتا ہے اور تضرعات سے خدا تعالیٰ کی طاقت اپنی طرف کھینچتا ہے اور پھر چاہتا ہے کہ اس طاقت سے دوسروں کو بھی حصہ ملے جو بوسیلہ ایمان اس سے پیوند پیدا کرتے ہیں معصوم انسان کو خدا سے طاقت طلب کرنے کی اس لئے ضرورت ہے کہ انسانی فطرت اپنی ذات میں تو کوئی کمال نہیں رکھتی بلکہ ہر دم خدا سے کمال پاتی ہے اور اپنی ذات میں کوئی قوت نہیں رکھتی بلکہ ہر دم خدا سے قوت پاتی ہے اور اپنی ذات میں کوئی کامل روشنی نہیں رکھتی بلکہ خدا سے اُس پر روشنی اُترتی ہے اس میں اصل راز یہ ہے کہ کامل فطرت کو صرف ایک کشش دی جاتی ہے تا کہ وہ طاقت بالا کو اپنی طرف کھینچ سکے۔مگر طاقت کا خزانہ محض خدا کی ذات ہے اسی خزانہ سے فرشتے بھی اپنے لئے طاقت کھینچتے ہیں اور ایسا ہی انسان کامل بھی اسی سر چشمہ طاقت سے عبودیت کی نالی کے ذریعہ سے عصمت اور فضل کی طاقت کھینچتا ہے۔۔۔۔پس استغفار کیا چیز ہے؟ یہ اس آلہ کی مانند ہے جس کی راہ سے طاقت اُترتی ہے تمام راز توحید اسی اصول سے وابستہ ہے کہ صفت عصمت کو انسان کی ایک مستقل جائداد قرار نہ دیا جائے بلکہ اس کے حصول کے لئے محض خدا کو سر چشمہ سمجھا جائے۔جب اللہ تعالیٰ کی حفاظت حاصل ہو جاتی ہے۔جب اللہ تعالیٰ سے انسان طاقت حاصل کر لیتا ہے، تب وہ تو بہ کی توفیق پاتا ہے اور تب اللہ تعالیٰ کے حضور اس کی تو بہ قبول ہوتی ہے۔