خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 742 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 742

خطبات ناصر جلد اوّل ۷۴۲ خطبہ جمعہ ۹ جون ۱۹۶۷ء بھی اللہ تعالیٰ سے قوت اور طاقت حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔تو یہ طاقتیں اور قوتیں استغفار کے ذریعہ سے حاصل کی جاتی ہیں۔خدا کا بندہ اپنے رب کو تمام طاقتوں اور قوتوں کا سر چشمہ سمجھتا ہے اور اپنے اندر کوئی اپنی طاقت اور قوت نہیں پاتا اور نہ ا دیکھتا ہے اس لئے ہر کام کے کرنے سے پہلے وہ اپنے رب کی طرف رجوع کرتا اور استغفار کرتا ہے اور اپنے رب سے کہتا ہے کہ اے خدا جو تمام طاقتوں کا سر چشمہ ہے اور تمام قوتوں کا منبع ہے مجھے وہ قوتیں اور طاقتیں اور استعدادیں عطا کر کہ میں برائیوں کو کلین چھوڑ دوں اور نیکیوں پر حقیقتاً قائم ہو جاؤں۔تو اس معنی میں پہلے استغفار ہے اور بعد میں تو بہ۔توبہ استغفار کے بغیر ممکن ہی نہیں۔اس مضمون پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بڑی بسط سے روشنی ڈالی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں:۔استغفار اور تو بہ دو چیزیں ہیں ایک وجہ سے استغفار کو تو بہ پر نقدم ہے کیونکہ استغفار مدد اور قوت ہے جو خدا سے حاصل کی جاتی ہے اور تو بہ اپنے قدموں پر کھڑا ہونا ہے۔عادۃ اللہ یہی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ سے مدد چاہے گا تو خدا تعالیٰ ایک قوت دے دے گا اور پھر اس قوت کے بعد انسان اپنے پاؤں پر کھڑا ہو جاوے گا۔اور نیکیوں کو کرنے کے لئے اس میں ایک قوت پیدا ہو جاوے گی۔جس کا نام تُوبُوا الیہ ہے۔اس لئے طبعی طور پر بھی یہی ترتیب ہے غرض اس میں ایک طریق ہے جو سالکوں کے لئے رکھا ہے کہ سالک ہر حالت میں خدا سے استمداد چاہے سالک جب تک اللہ تعالیٰ سے قوت نہ پائے گا کیا کر سکے گا ؟ توبہ کی توفیق استغفار کے بعد ملتی ہے اگر استغفار نہ ہو تو یقیناً یا درکھو کہ تو بہ کی قوت مرجاتی ہے۔پھر اگر اس طرح پر استغفار کرو گے اور پھر تو بہ کرو گے تو نتیجہ یہ ہوگا يُمتعكم متَاعًا حَسَنًا إِلَى أَجَلٍ (هود: ۴) سنت اللہ اسی طرح پر جاری ہے کہ اگر استغفار اور توبہ کرو گے تو اپنے مراتب پالو گے ہر ایک شخص کے لئے ایک دائرہ ہے جس میں وہ مدارج ترقی کو حاصل کرتا ہے۔“ ۵۴ آپ نے فرمایا کہ اپنے اپنے دائرہ کے اندر رہتے ہوئے جس حد تک تمہارے لئے ممکن