خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 741
خطبات ناصر جلد اول ۷۴۱ خطبہ جمعہ ۹ جون ۱۹۶۷ء تو بہ اور استغفار کے اندر پائی جاتی ہے صحیح طور پر اور حقیقی معنی میں وہ اُمت سمجھنے والی ہوگی اور ان کو ایک ایسی شریعت دی جائے گی جو ان باتوں کو کھول کر بیان کرے گی۔شرع میں اور اسلامی اصطلاح میں تو بہ کے معنی میں چار باتیں پائی جاتی ہیں:۔(۱) گناہ کو ترک کر دینا۔مثلاً جس شخص کو جھوٹ کی عادت ہو وہ ایک گناہ کر رہا ہے تو جھوٹ کو چھوڑ دینے کا نام تو بہ ہے۔یہ اس کا ایک پہلو ہے۔(۲) یہ کہ گناہ پر ندامت کا احساس پیدا ہو جانا۔ہر آدمی ہر وقت تو جھوٹ نہیں بولتا لیکن ایک شخص ایک لمبے عرصہ تک جھوٹ نہیں بولتا مثلاً چھ مہینے اس نے کوئی جھوٹ نہیں بولا تو ترک گناہ تو ہوا (اس چھ ماہ میں) لیکن تو بہ نہیں کیونکہ ترک گناہ کے علاوہ تو بہ میں گناہ پر ندامت کے احساس کا پیدا ہو جانا بھی ضروری ہے۔(۳) یہ کہ عزم یہ ہو کہ میں اس گناہ کی طرف لوٹوں گا نہیں، پورے عزم کے ساتھ گناہ کو چھوڑنے والا ہو اور (۴) یہ کہ بعض گناہ ایسے ہوتے ہیں جن کا تدارک بھی کیا جا سکتا ہے۔مثلاً کسی کے سوروپے مارے ہوئے ہیں تو تو بہ کے صرف یہ معنی نہیں ہوں گے کہ آئندہ لوگوں کا مال مارنے سے تو بہ کر لی احساس ندامت کے ساتھ اور اس عزم کے ساتھ کہ میں کبھی بھی ایسے گناہ کی طرف نہیں لوٹوں گا لیکن قوت ہونے کے باوجود وہ سور و پید ادا نہ کرے حالانکہ وہ اتنا غریب نہیں کہ سور و پید ادا نہ کر سکے تو پھر بھی وہ تو بہ نہیں ہے۔ان ہر چہار باتوں کے کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم اپنے پیدا کرنے والے سے قوت حاصل کریں کیونکہ گناہ کا چھوڑ نا خدا تعالیٰ سے حاصل کردہ قوت کے بغیر ممکن نہیں۔گناہ پر ندامت کے احساس کا پیدا ہونا اس کی توفیق کے بغیر ناممکن ہے باقی رہا عزم ! تو انسان کے اندر کیسے یہ ہمت ہو سکتی ہے کہ وہ یہ دعویٰ کرے کہ میں اللہ تعالیٰ کی طاقت کے بغیر، اللہ تعالیٰ سے طاقت حاصل کئے بغیر یہ عزم کر سکتا ہوں، پختہ ارادہ کر سکتا ہوں کہ آئندہ کوئی گناہ نہیں کروں گا۔پس اس کے لئے بھی خدا تعالیٰ کی توفیق کی ضرورت ہے۔اور جس حد تک ممکن ہو تدارک کرنا ، اس کے لئے