خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 729
خطبات ناصر جلد اول ۷۲۹ خطبہ جمعہ ۲ جون ۱۹۶۷ء کا تصور کہ خدائے تعالیٰ ہر یک قسم کی ربوبیت اور پرورش اور رحمت اور بدلہ دینے پر قادر ہے اور اس کی یہ صفات کا ملہ ہمیشہ اپنے کام میں لگی ہوئی ہیں دوسرے اس بات کا تصور کہ انسان بغیر توفیق اور تائید الہی کے کسی چیز کو حاصل نہیں کر سکتا اور بلا شبہ یہ دونوں تصور ایسے ہیں کہ جب دعا کرنے کے وقت دل میں جم جاتے ہیں تو ریکا یک انسان کی حالت کو ایسا تبدیل کر دیتے ہیں کہ ایک متکبران سے متاثر ہو کر روتا ہوا زمین پر گر پڑتا ہے اور ایک گردن کش سخت دل کے آنسو جاری ہو جاتے ہیں۔یہی گل ہے جس سے ایک غافل مردہ میں جان پڑ جاتی ہے۔انہیں دو باتوں کے تصور سے ہر یک دل دعا کرنے کی طرف کھینچا جاتا ہے غرض یہی وہ روحانی وسیلہ ہے جس سے انسان کی روح رو بخدا ہوتی ہے اور اپنی کمزوری اور امداد ربانی پر نظر پڑتی ہے۔اسی کے ذریعہ سے انسان ایک ایسے عالم بے خودی میں پہنچ جاتا ہے جہاں اپنی مکدر ہستی کا نشان باقی نہیں رہتا اور صرف ایک ذات عظمی کا جلال چمکتا ہوا نظر آتا ہے اور وہی ذات رحمت کل اور ہریک ہستی کا ستون اور ہر یک درد کا چارہ اور ہر یک فیض کا مبدء دکھائی دیتی ہے آخر اس سے ایک صورت فنافی اللہ کی ظہور پذیر ہو جاتی ہے جس کے ظہور سے نہ انسان مخلوق کی طرف مائل رہتا ہے، نہ اپنے نفس کی طرف، نہ اپنے ارادہ کی طرف اور بالکل خدا کی محبت میں کھویا جاتا ہے اور اس ہستی حقیقی کی شہود سے اپنی اور دوسری مخلوق چیزوں کی ہستی کا لعدم معلوم ہوتی ہے۔اٹھارہو میں غرض یہ بتائی گئی تھی کہ خانہ کعبہ کے قیام کے نتیجہ میں خدائے سمیع کی معرفت دنیا حاصل کر لے گی ایک ایسی اُمت یہاں پیدا کی جائے گی جو دنیا کو خدائے سمیع سے متعارف کرائے گی اور دنیا اس حقیقت سے انکار نہ کر سکے گی کہ تضرع اور ابتہال سے دعاؤں میں مشغول رہنے والے ہی اللہ تعالیٰ کی صفت سمیع کے جلوے دیکھا کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ سورہ مومن میں فرماتا ہے۔وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدُ خُلُونَ جَهَنَّمَ ذَخِرِينَ (المؤمن: ۶۱) کہ تمہارا رب کہتا ہے کہ مجھے پکارو میں تمہاری دعا سنوں گا لیکن وہ لوگ جو تکبر کرتے ہوئے میری حقیقی عبادت سے منہ پھیر لیتے ہیں یعنی ایسی عبادت سے جسے میں ،،