خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 728 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 728

خطبات ناصر جلد اول ۷۲۸ خطبہ جمعہ ۲ جون ۱۹۶۷ء اعمالِ صالحہ کی قبولیت کے لئے جو دعائیں کرتے ہیں وہ بھی تیرے تک تبھی پہنچ سکتی ہیں کہ جب تو ہماری دعاؤں کو قبول کرنے کا فیصلہ کرلے تو قبولیت دعا کے لئے پھر آگے دعا کی جاتی ہے۔تو اللہ تعالیٰ نے یہاں یہ فرمایا کہ خدا کو تمہاری کوئی پرواہ نہیں ، تمہارے اعمال کی کوئی پرواہ نہیں، تمہاری قربانیوں کی کوئی پرواہ نہیں ، جو تم صدقہ و خیرات اس کی راہ میں دیتے ہو اس کو ان کی کیا پرواہ ہے۔اس کے خزانے کیا خالی ہیں کہ تمہارے مال کی اس کو پرواہ ہو؟ تم اس کے احکام بجالاتے ہو، انتہائی طور پر مجاہدہ کرتے ہو، کوشش کرتے ہو اس کی راہ میں، پھر بھی اسے تمہاری کوئی پرواہ نہیں تمہیں ان تمام چیزوں کا فائدہ اس وقت پہنچ سکتا ہے جب تم دعا کے ذریعہ اس کے فضل کو جذب کرو۔جب رحیمیت کے جلوہ کے ساتھ رحمانیت کا جلوہ بھی شامل ہو جائے تب تمہاری حقیر کوششیں بھی تمہیں ساتویں آسمان تک پہنچا سکتی ہیں۔لیکن اگر تم یہ سمجھو کہ اس کے فضل کے بغیر تم پہلے آسمان پر بھی پہنچ سکتے ہو تو تم غلطی خوردہ ہو، اس کے فضل کے بغیر تحت اللی تک تو تم پہنچ سکتے ہو، شیطان کی گود میں تو تم جا سکتے ہو لیکن رحمان خدا کی گود میں اس کے فضل اور رحم کے بغیر کوئی نہیں جاسکتا۔فَقَد كَذَّبتم تم اس حقیقت کو جھٹلاتے ہو تم میں سے بعض بظاہر بڑے متقی اور پر ہیز گار ہیں لیکن وہ اپنے اعمال پر اپنی دعاؤں پر اور اپنی شب بیداری پر اور دنیا کے لوگوں کی خدمت جو کرتے ہیں اس پر فخر کرنے والے ہیں۔خدا تعالیٰ کو ان کی کوئی پرواہ نہیں ہے جب تک کہ وہ دعا کو اپنی تمام شرائط کے ساتھ نہ کریں اور اللہ تعالیٰ ان کی دعا کو قبول کر کے رحمانیت کے جوش میں ان کے اعمال کو قبول نہ کر لے۔فَسَوْفَ يَكُونُ لِذا ما اب تمہارے جھٹلانے کے بدنتائج تمہارے ساتھ لگے رہیں گے۔اب دیکھو اس وقت مسلمانوں کے بعض فرقوں میں انتہائی مجاہدہ کرنے والے لوگ بھی ہیں لیکن ان کے مجاہدات کا کیا نتیجہ ان کے حق میں نکل رہا ہے۔جہاں تک ہم سمجھتے ہیں وہ نتیجہ نہیں نکل رہا جو ایک متقی کے ایسے ہی اعمال بلکہ اس سے ہزارویں حصہ اعمال کا نتیجہ نکلا کرتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام براہین احمدیہ میں فرماتے ہیں :۔حقیقت میں انہی دو چیزوں کا تصور دعا کے لئے ضروری ہے۔یعنی اول اس بات