خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 727 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 727

خطبات ناصر جلد اول ۷۲۷ خطبہ جمعہ ۲ جون ۱۹۶۷ء اس میں اشارہ تھا کہ ایک عظیم نبی یہاں مبعوث ہو گا اور اس کے فیوض روحانی کے طفیل ایک ایسی اُمت جنم لے گی جو اس حقیقت کو سمجھنے والی ہو گی کہ انتہائی قربانیاں بھی بے سود اور بے نتیجہ ہیں جب تک عاجزانہ دعاؤں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کے فضل کو جذب نہ کیا جائے پس دعاؤں کے ذریعہ ہی معرفت کے بلند مقام کو وہ حاصل کرے گی اور دعاؤں کے طفیل ہی اپنے اعمال کے بہترین پھل وہ پائے گی۔قرآن کریم نے بڑی وضاحت کے ساتھ ان تین مقاصد کا ذکر کیا ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ دعا اور قبولیت دعا پر اسلام نے جو روشنی ڈالی ہے کسی اور مذہب نے نہیں ڈالی کوئی اور مذہب اس کے مقابلہ میں پیش ہی نہیں کیا جا سکتا اللہ تعالیٰ سورہ فرقان کے آخر میں عبادالرحمن کا ذکر کرتا ہے کہ عبادالرحمن وہ ہیں جو یہ اعمال بجالاتے ہیں یا ان اعمال سے پر ہیز کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔الرحمن کے معنی ہیں وہ پاک ہستی ( اللہ ) جو بغیر کسی عمل کرنے والے کے عمل اور بغیر کسی استحقاق حق کے اپنا احسان اس پر کرتی ہے۔تو آگے عِبَادُ الرَّحْمٰن کے سارے اعمال کا ذکر ہے جس کا بظاہر صفت رحیمیہ کے ساتھ تعلق ہے۔پس یہاں مضمون یہ بیان ہوا ہے کہ تم نیک اعمال جتنے چاہو بجالا ؤ ، جب تک رحيمية کے ساتھ رحمانیت کا فیض شامل نہیں ہوگا تمہیں کوئی بدلہ نہیں مل سکتا۔اسی لئے جب یہ مضون ختم کیا تو آخر میں بڑے پر شوکت الفاظ میں یہ فرما یا قُلْ مَا يَعْبَؤُا بِكُمْ رَبِّي لَوْ لَا دُعَاؤُكُمْ فَقَدْ كَذَّبْتُم فَسَوْفَ يَكُونُ لِزَامًا (الفرقان : ۷۸ یعنی یہ تو صحیح ہے کہ اعمال صالحہ بجالا نا بھی ضروری ہے اور بد اعمال سے بچنا بھی انسان کے فائدہ کی چیز ہے لیکن یہ یاد رکھو تمہاری اور تمہاری نیکیوں کی تمہارے خدا کو کیا پرواہ ہے کو لَا دُعا و کمر ہاں اگر تم اس کی پرواہ کرتے ہو تو اپنی دعاؤں سے اس کے فضل کو جذب کرو۔جب تم اپنی دعا کے ساتھ اس کے فضل کو جذب کر لو گے تب تمہارے یہ اعمال تمہیں فائدہ پہنچا سکیں گے۔پھر دعا بھی بے معنی ہے جب دعا کے ساتھ قبولیت دعا حاصل نہ کی جائے۔دعا کی قبولیت کے لئے بھی اللہ تعالیٰ کا فضل ہی چاہیے اور اس کے لئے بھی دعا کرنی پڑتی ہے پس ہمیشہ دعا کرتے رہنا چاہیے کہ اے خدا! ہم کچھ کرتے ہیں یا نہیں کرتے ہم