خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 716
خطبات ناصر جلد اول خطبہ جمعہ ۲۶ رمئی ۱۹۶۷ء اس آیت کو شروع کیا گیا ہے تبلیغ پر زور دینے سے اور پھر تسلی دلائی گئی ہے کہ جب تم تبلیغ کرو گے تو تمہارے خلاف فتنے تو کھڑے ہوں گے مگر تم ہلاک نہیں ہو گے۔تکلیفیں تو دنیا میں دنیا والوں سے خدا تعالیٰ کے لئے خدا کے بندوں کو پہنچتی ہی ہیں لیکن تم خدا تعالیٰ کی پناہ میں ہو اور خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ تمہیں کوئی طاقت ہلاک نہیں کر سکتی ، مٹا نہیں سکتی۔اگر یہ وعدہ اُمت محمدیہ کو نہ دیا جاتا تو بلغ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبَّكَ کا جو فریضہ تھا وہ کبھی ادا نہ کر سکتی کیونکہ انہیں یہ فکر ہوتی کہ اگر دشمن نے ہمیں ہلاک کر دیا تو تبلیغ کا راستہ کلیہ منقطع ہو جائے گا خدا تعالیٰ نے کہا تم میں سے بعض مارے جا سکتے ہیں، تم میں سے بعض ہلاک کئے جاسکتے ہیں، تم میں سے بعض قید کئے جا سکتے ہیں۔تم میں سے بعض تبلیغ کے لحاظ سے پابند کئے جا سکتے ہیں تم میں سے بعض کی زبان بندی کی جاسکتی ہے۔تم میں سے بعض کی قلم بندی کی جاسکتی ہے لیکن بحیثیت مجموعی اُمت مسلمہ اس قسم کے ابتلا اور اس قسم کے مصائب سے خدائے تعالیٰ کی پناہ میں ہے اور اس قسم کی کوئی مصیبت اس پر نہیں آسکتی جو صفحہ ہستی سے ان کو مٹا دے۔اگر آپ غور کریں تو ایک وقت وہ بھی تھا کہ اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خدا کی حفاظت میں نہ ہوتے تو مکہ کا ایک سر پھرا آپ کو قتل کر دیتا یعنی اسلام کو مٹانے کے لئے صرف ایک آدمی کی ضرورت تھی پھر ایک وقت وہ آیا کہ اگر تین ہزار آدمی مرنے کے لئے تیار ہو جاتے تو بظاہر اسلام کو مٹا دیتے لیکن خدا نے کہا کہ میں اتنے آدمی اور اتنی طاقت اسلام کے مخالف کو نہیں دوں گا کہ وہ اسلام پر کاری ضرب لگا سکے چنانچہ بدر کے میدان میں قریباً تین گنا طاقت کے ساتھ وہ آئے تھے۔بعض صحابہ شہید بھی ہوئے لیکن انہیں مٹنے نہیں دیا گیا۔پھر جب تک مکہ میں اور عرب میں اسلام مضبوط نہیں ہو گیا، قیصر اور کسریٰ کو خدا نے اجازت نہیں دی کہ وہ اسلام کو مٹانے کی کوشش کر دیکھیں۔لیکن جب اسلام ملک عرب میں مضبوط ہو گیا تو قیصر و کسریٰ کو بھی اجازت دی گئی کہ وہ اسلام کے خلاف جس قدر چاہیں زور لگا لیں اور جو کچھ ان سے بن آیا اسلام کی مخالفت میں انہوں نے کیا مگر ہمیشہ نا کامی کا منہ دیکھا اور سب سے بڑا معجزہ جو ہمیں نظر آتا ہے وہ یہ ہے کہ کسی وقت بھی مخالفین کو اتنی طاقت نہیں دی گئی کہ وہ اُمت مسلمہ کو کلیہ مٹادیں۔ایک حصہ نے قربانی دی ایک