خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 56
خطبات ناصر جلد اول ۵۶ خطبه جمعه ۲۴؍دسمبر ۱۹۶۵ء الغرض اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ رمضان میں روزے اس لئے فرض کئے گئے ہیں کہ تم سہام اللیل ( دعاؤں) کے پھلوں کو تیز کرو اور اپنے مطلوب (رضاء الہی ) کی تلاش میں نکلو۔پیاس اور بھوک کو برداشت کرو اور بے خوابی کو خدا تعالیٰ کا فضل سمجھو۔کیونکہ یہ ایسا برکتوں والا مہینہ ہے کہ جس میں قرآن کریم جیسا کلام الہی نازل کیا گیا ہے۔اس لئے فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُهُ تم میں سے جو شخص بھی بلوغت ، صحت اور حضر میں یہ ماہ پائے وہ اس کے روزے رکھے۔شھد کے ایک معنی ہیں عَايَنَهُ وَاطَّلَعَ عَلَيْهِ کہ اس کا معائنہ کیا اور اس پر اطلاع پائے۔یعنی ہم نے جو اس روزہ کی حکمتیں بیان کی ہیں۔اگر تم ان کا اچھی طرح مطالعہ کرو اور ان پر اطلاع پاؤ تو پھر تمہیں اس ماہ کے روزے پوری طرح اور مقرر کردہ شرائط کے مطابق رکھنے چاہئیں بلکہ تم خود بخود اس کے روزے رکھو گے سوائے اس کے کہ کوئی روحانی کمزوری تم میں موجود ہو۔آگے فرمایا يُرِيدُ اللهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ کہ اللہ تعالیٰ تمہارے لئے آسانی چاہتا ہے تنگی نہیں چاہتا۔اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ جو تنگیاں تمہیں نظر آتی ہیں کہ صبح سے شام تک کھانا پینا چھوڑ نا جس کی وجہ سے بھوک اور پیاس لگتی ہے۔پھر سخت گرمی کے موسم میں اور سخت سردی کے موسم میں کچھ اور تکالیف پیش آتی ہیں۔فرمایا یہ جو تکالیف تمہیں پیش آتی ہیں یہ محض عارضی اور وقتی ہیں۔اتنا پیارا خدا اتنا پیارا رب جس نے قرآن کریم جیسی اعلیٰ تعلیم تم پر نازل کی اور بے شمار دنیوی نعمتوں سے تمہیں محض اپنے فضل سے نوازا، وہ ہرگز پسند نہیں کرے گا کہ وہ تمہیں ان تکالیف میں اس لئے مبتلا کرے کہ تا تمہیں دکھ پہنچائے۔نہیں بلکہ وہ تو تمہارے لئے آسانی پیدا کرنا چاہتا ہے کیونکہ اگر تم ان خفیف سی وقتی تکالیف کو برداشت کر لو گے تو ان کے بدلے میں وہ تمہیں وہ انعام اور اکرام بخشے گا کہ انہیں پا کر تمہیں یہ دکھ، دکھ ہی نظر نہ آئے گا۔پھر فرمایا وَلِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ اس کے ایک معنی تو یہ ہیں کہ ہم نے تم پر روزے فرض کئے تو یہ حکم بھی دیا کہ