خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 57
خطبات ناصر جلد اول ۵۷ خطبه جمعه ۲۴؍دسمبر ۱۹۶۵ء سارے رمضان کے روزے رکھو تا کہ تم اس کی گفتی کو پورا کرو۔اگر صرف یہ حکم ہوتا کہ روزے رکھو تو کوئی بیس دن کے روزے رکھتا۔کوئی دس دن کے کوئی رمضان کے مہینے میں رکھتا کوئی دوسرے مہینوں میں۔پس ہم نے رمضان میں روزے رکھنے کا اس لئے حکم دیا تا کہ اُمت مسلمہ ساری کی ساری اس سارے مہینے میں روزے رکھے اور ان اجتماعی برکات سے فائدہ اٹھائے جو اجتماعی عبادات سے تعلق رکھتی ہیں۔دوسرے اس کے معنی یہ ہیں اور یہ زیادہ لطیف ہیں کہ جو زندگی تمہیں دی گئی ہے اسے تم پورا کرو۔اس کا کمال تمہیں حاصل ہو۔اس میں اشارہ ہمیں بتایا کہ اگر کسی شخص کے پاس مثلا سو روپیہ ہے۔اگر اس میں سے بیس روپے گم ہو جائیں یا چوری ہو جائیں اور باقی وہ خرچ کرے تو ہم نہیں کہہ سکتے کہ اس نے تمام سو روپیہ خرچ کیا ہے کیونکہ اس کے پاس خرچ کرنے کے لئے تو صرف اسی روپے رہ گئے تھے سو کا سو روپیہ وہی خرچ کرتا ہے جس کے پاس وہ سو کا سور و پیہ موجود بھی ہو۔فرماتا ہے کہ تم میں سے ہر ایک کو ہم نے ایک پیمانہ کے مطابق عمر دی ہے اور ہم نے تم پر دینی فرائض اس لئے واجب کئے ہیں تا کہ تم اپنی عمر کو پوری طرح گزار سکو اور اس کا کوئی لمحہ ضائع نہ ہو۔ایک شخص کی عمر سو سال ہو اس میں سے ۲۰ سال اس نے دنیا کی لہو ولعب میں ضائع کر دئے ہوں تو حقیقتاً اس نے سو سال کی زندگی نہیں گزاری کیونکہ میں سال اس نے مردہ ہونے کی حالت میں گزارے ہیں۔سو سال کی عمر پانے والا سو سال کی زندگی اسی صورت میں صحیح طور پر گزارتا ہے جس صورت میں کہ اس نے ساری زندگی اپنے اللہ کی اطاعت میں گزاری ہو۔جس شخص نے اپنی زندگی کے چند لمحات یا زیادہ وقت اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے پہلو تہی کرتے ہوئے ، اس سے منہ موڑتے ہوئے ، نیک نیتی اور اخلاص کو بالائے طاق رکھتے ہوئے گزارا ہواس کی عمر کا وہ حصہ ضائع ہو گیا اور نہیں کہہ سکتے کہ اس نے اپنی پوری عمر جو اللہ تعالیٰ نے اسے عطا کی تھی وہ حقیقتاً اس نے اس دنیا میں گزاری کیونکہ یہاں کی پیدائش کا ایک مقصد ہے اور جو حصہ عمر اس مقصد