خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 702
خطبات ناصر جلد اول ۷۰۲ خطبہ جمعہ ۱۹ رمئی ۱۹۶۷ء اور عدل کے اصول پر طے ہو جائیں گے اور امن کو کسی قسم کا دھکا نہیں لگے گا پس قرآن کریم نے بڑی تفصیل سے یہ تعلیم دی جس کے نتیجہ میں دنیا میں امن قائم ہوسکتا ہے۔چونکہ مقابةٌ کے مقصد کے حصول کی ذمہ داری جماعت احمدیہ پر ہے اس لئے اس کی ذمہ داری بھی جماعت احمد یہ پر ہے کہ وہ دنیا میں کثرت کے ساتھ اس تعلیم کی اشاعت کرے جو قرآن کریم نے دنیا میں قوموں کے درمیان امن قائم کرنے کے لئے ہمیں دی ہے کیونکہ اگر دنیا اندھیرے میں رہے تو قیامت کے روز کہہ سکتے ہیں کہ اے خدا! ہمیں تو علم نہیں تھا جن کو علم تھا اور جن کے کندھوں پر تو نے یہ ذمہ داری رکھی تھی کہ وہ ہمیں علم دیں انہوں نے ہم تک یہ علم نہیں پہنچایا اس لئے ہمیں بے قصور قرار دے اور جن کا قصور ہے ان پر اپنے غضب کا اظہار کر اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے غضب سے محفوظ رکھے۔دسواں مقصد بیت اللہ کی تعمیر کا یہ بیان ہوا تھا۔اِتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِمَ مُصَلَّى جس میں یہ بتایا گیا تھا کہ ملکہ کے ذریعہ بیت اللہ کے ذریعہ اور اس میں مبعوث ہونے والے عظیم الشان نبی کے طفیل اقوام عالم مقام عبودیت کا عرفان حاصل کریں گی اور اس حقیقی عبادت کی بنیاد یہاں ڈالی جائے گی جو تذلل اور فروتنی اور انکسار کے منبع سے پھوٹتی ہے اور اس طرح قوم قوم میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ظل پیدا ہوں گے اور زمین کے خطہ خطہ پر اشاعت اسلام کے لئے مراکز قائم کئے جائیں گے جہاں عاجزانہ دعاؤں کے ذریعہ خدا تعالیٰ کی عظمت اور جلال کا اقرار کیا جائے گا اور اظہار کیا جائے گا اور اس عاجزی اور تذلل کے نتیجہ میں جو محض خدا کی خوشنودی اور رضا کے حصول کے لئے اختیار کیا جائے گا وہ اقوام آسمانی برکات حاصل کریں گی اور بخشش کی مستحق ٹھہریں گی۔تو فرمایا تھا کہ یہاں مکہ کے ذریعہ اس شریعت کے طفیل جو یہاں نازل ہو گی صلوٰۃ کو اپنے تمام معانی اور تمام شرائط کے ساتھ ادا کرنے والی اُمت پیدا ہو جائے گی جو مقام عبودیت پر مضبوطی سے قائم ہوگی۔در اصل اس کا تعلق بھی پہلے دو مقاصد سے ہے کیونکہ آٹھواں وعدہ یہ تھا کہ تمام اقوام کو ایک امت مسلمہ بنا دیا جائے گا ایک قوم بنا دیا جائے گا یہ ہو نہیں سکتا جب تک امنِ عالم کا قیام نہ ہو تو