خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 698
خطبات ناصر جلد اوّل ۶۹۸ خطبہ جمعہ ۱۹ رمئی ۱۹۶۷ء سامان پیدا کر دے گا کہ دنیا کے سامنے انہیں اپنی شکست کو تسلیم کرنا پڑے گا۔انشاء اللہ تعالیٰ۔تو آٹھواں مقصد ساری دنیا کی اقوام کو وحدت کے سلسلہ میں منسلک کرنا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نے اس کام کو پورا کرنے کا وعدہ دیا ہے اور جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بڑی وضاحت کے ساتھ فرمایا ہے کہ اس مقصد کے حصول کا تعلق جماعت احمدیہ سے ہے اور اس کے نتیجہ میں جماعت احمدیہ پر بڑی ہی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں جن کی طرف مجھے اور آپ سب کو توجہ دینی چاہیے۔تو آٹھواں مقصد مثابہ میں بیان ہوا ہے اور ظاہر ہے یہ مقصد سوائے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی اور کے ذریعہ سے حاصل نہیں ہوا اور نہ ہوسکتا ہے کیونکہ کسی اور نبی کو ایسی شریعت نہیں دی گئی جو مختص القوم نہ ہو جس کا تعلق صرف اس کی قوم اور اس کے زمانہ کے ساتھ نہ ہو۔صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہے جن کو ایک ایسی شریعت اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہوئی جو انسان کی تمام ضرورتوں کو پورا کرنے والی اور جس کا تعلق دنیا کی ہر قوم اور قیامت تک کے ہر زمانہ کے ساتھ ہے۔اور وہ وعدے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا تعالیٰ کی طرف سے دئے گئے وہ اپنے وقت پر پورے ہوتے رہے ہیں۔یہ وعدہ جو ہے اس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ اس کے پورا ہونے کا وقت مسیح موعود کا زمانہ ہے اور اس کے پورا کرنے کی ذمہ داری جماعت احمدیہ پر ہے۔اللہ تعالیٰ جماعت کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔نواں مقصد جس کا ان آیات میں ذکر ہے وہ آمنا کے لفظ میں بیان ہوا ہے۔مثابةٌ میں بین الاقوامی تعلقات کے مضبوط بنیادوں پر مستحکم ہونے کا ذکر تھا اور بین الاقوامی رشتہ اخوت کے استحکام کے لئے یہ ضروری ہے کہ بین الاقوامی امن کے قیام اور قوموں کے باہمی تعلقات میں تسکین قلب کے سامان پیدا کئے جائیں اور ذرائع مہیا کئے جائیں۔وعدہ یہ دیا گیا تھا کہ مثابةً کا وعدہ بھی پورا ہو گا اور اس کے لئے جو ضروری چیز ہے کہ بین الاقوامی امن کا ماحول پیدا کیا جائے وہ وعدہ بھی پورا ہوگا اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ دنیا کو جو شریعت دی جائے گی اس میں بین الاقوامی امن کے قیام کی تعلیم دی جائے گی اور وعدہ دیا گیا تھا کہ حقیقی امن دنیا کو صرف اس