خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 694 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 694

خطبات ناصر جلد اول ۶۹۴ خطبہ جمعہ ۱۹ رمئی ۱۹۶۷ء دوبارہ جس جگہ وہ اکٹھے ہوں اسے مثابَةً کہتے ہیں۔اور ایک دوسرے معنی اس کے یہ ہیں۔مَكَانًا يُكْتَبُ فِيْهِ الثَّوَابُ وہ جگہ جہاں لوگوں کے لئے ثواب اور بدلہ اور جزا کے احکام جاری ہوتے اور لکھے جاتے ہیں۔یہاں اللہ تعالیٰ نے یہ فرما یا کہ ہم اس بیت اللہ کونبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد ایک ایسا مرکزی نقطہ بنانے والے ہیں کہ جہاں دنیا کی تمام منتشر اور پراگندہ اقوام پھر سے جمع ہوں گی اور ان کی کوئی اور جگہ باقی نہ رہے گی جہاں سے انہیں اپنے رب کے ثواب کے حصول کی امید اور توقع ہو۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے اس غرض کو پورا کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا اور اسلامی شریعت کو نازل کیا اور جس طرح ابتدا میں خانہ کعبہ انسانیت کا مرکز تھا کیونکہ حضرت آدم علیہ السلام کے وقت ایک ہی نبی تھا اور ایک ہی قوم تھی اور ایک ہی شریعت تھی ، ابھی انسان دنیا میں نہیں پھیلا تھا اور قوم قوم میں تقسیم نہیں ہوا تھا تو ابتدا میں خانہ کعبہ ہی انسانیت کا مرکز تھا روحانی طور پر۔اس کے بعد آدم علیہ السلام کی نسل دنیا میں پھیلنی شروع ہوئی اور دور دراز کے علاقوں میں آباد ہو گئی۔آپس کے تعلقات قائم نہ رہے ان کی روحانی ترقی اور نشوونما کے لئے اللہ تعالیٰ نے ہر قوم میں علیحدہ علیحدہ نبی اور رسول بھیجنے شروع کئے اور اس طرح روحانی طور پر وہ ایک قوم نہ رہے بلکہ منتشر ہو گئے اور تفرقہ پڑ گیا اور نسل آدم قوم قوم میں بٹ گئی۔تو جس طرح ابتدا میں خانہ کعبہ انسانیت کا مرکز تھا۔آخری اور اکمل دور میں بھی خدا کا یہ گھر وحدت انسانی کا مرکز بننا مقصود تھا اور انبیاء کے سردار محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے لئے بیت اللہ کو منتخب کیا گیا تا وحدت انسانی کا نبی اور وحدت انسانی کا قبلہ دونوں ایک جگہ جمع ہو جا ئیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس موضوع پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے میں اس وقت حضور کے دو اقتباسات جو اس مضمون سے تعلق رکھتے ہیں اپنے دوستوں کو سنا تا ہوں حضور فرماتے ہیں۔ابتدائے زمانہ میں انسان تھوڑے تھے اور اس تعداد سے بھی کم تر تھے جو ان کو ایک قوم کہا جائے۔اس لئے ان کے لئے صرف ایک کتاب کافی تھی۔پھر بعد اس کے