خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 695
خطبات ناصر جلد اول ۶۹۵ خطبہ جمعہ ۱۹ رمئی ۱۹۶۷ء جب دنیا میں انسان پھیل گئے اور ہر ایک حصہ زمین کے باشندوں کا ایک قوم بن گئی اور باعث دور دراز مسافتوں کے ایک قوم دوسری قوم کے حالات سے بالکل بے خبر ہو گئی ایسے زمانوں میں خدا تعالیٰ کی حکمت اور مصلحت نے تقاضا فرمایا کہ ہر ایک قوم کے لئے جدا جدا رسول اور الہامی کتابیں دی جائیں چنانچہ ایسا ہی ہوا اور پھر جب نوع انسان نے دنیا کی آبادی میں ترقی کی اور ملاقات کے لئے راہ کھل گئی اور ایک ملک کے لوگوں کو دوسرے ملک کے لوگوں کے ساتھ ملاقات کرنے کے لئے سامان میسر آگئے اور اس بات کا علم ہو گیا کہ فلاں فلاں حصہ زمین پر نوع انسان رہتے ہیں اور خدا تعالیٰ کا ارادہ ہوا کہ ان سب کو پھر دوبارہ ایک قوم کی طرح بنا دیا جائے اور بعد تفرقہ کے پھر ان کو جمع کیا جاوے تب خدا نے تمام ملکوں کے لئے ایک کتاب بھیجی اور اس کتاب میں حکم فرمایا کہ جس جس زمانہ میں یہ کتاب مختلف ممالک میں پہنچے ان کا فرض ہوگا کہ ان کو قبول کر لیں اور اس پر ایمان لاویں اور وہ کتاب قرآن شریف ہے جو تمام ملکوں کا باہمی رشتہ قائم کرنے کے لئے آئی ہے۔قرآن سے پہلی سب کتابیں مختص القوم کہلاتی تھیں یعنی صرف ایک قوم کے لئے ہی آتی تھیں۔مگر سب کے بعد قرآن شریف آیا جو ایک عالمگیر کتاب ہے اور کسی خاص قوم کے لئے نہیں بلکہ تمام قوموں کے لئے ہے ایسا ہی قرآن شریف ایک ایسی امت کے لئے آیا جو آہستہ آہستہ ایک ہی قوم بنا چاہتی تھی۔سواب زمانہ کے لئے ایسے سامان میسر آگئے ہیں جو مختلف قوموں کو وحدت کا رنگ بخشتے جاتے ہیں۔باہمی ملاقات جو اصل جڑ ایک قوم بنے کی ہے ایسی سہل ہوگئی ہے کہ برسوں کی راہ چند دنوں میں طے ہوسکتی ہے اور پیغام رسانی کے لئے وہ سبیلیں پیدا ہو گئی ہیں کہ جو ایک برس میں بھی کسی دور دراز ملک کی خبر نہیں آسکتی تھی وہ اب ایک ساعت میں آسکتی ہے۔زمانہ میں ایک ایسا انقلاب عظیم پیدا ہو رہا ہے اور تمدنی دریا کی دھار نے ایک ایسی طرف رخ کر لیا ہے جس سے صریح معلوم ہوتا ہے کہ اب خدا تعالیٰ کا یہی ارادہ ہے کہ تمام قوموں کو جو دنیا میں پھیلی ہوئی ہیں ایک قوم بنادے اور ہزار ہا برسوں کے بچھڑے ہوؤں کو پھر باہم ملا دے۔