خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 55 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 55

خطبات ناصر جلد اول ۵۵ خطبہ جمعہ ۲۴؍دسمبر ۱۹۶۵ء تو فرمایا کہ اتنی عظیم الشان کتاب کو ہم نے رمضان شریف میں نازل فرمایا ہے۔ھدی للناس میں ایک بڑا ز بر دست دعویٰ پیش کیا گیا ہے۔فرمایا کہ اب یہی ایک کتاب ہے جس پر عمل کر کے تمہارا انجام بخیر ہو سکتا ہے اور تم جنت موعودہ کو پاسکتے ہو۔دنیا کی دوسری تعلیمیں فلسفیانہ ہوں یا مذہبی ، ان کے اندر کچھ ایسی باتیں تو ضرور پائی جاتی ہیں کہ جن پر عمل کر کے ہم اس دنیا میں ترقی کر سکتے ہیں لیکن یہاں فرمایا کہ قرآن کریم کے علاوہ دنیا میں ایسی کوئی کتاب موجود نہیں جو انسان کی ضرورتوں کو اس طور پر پورا کر سکے کہ اس کی اخروی زندگی بھی اس کے لئے جنت بن جائے۔یہ صرف قرآن کریم ہی ہے جس کے ذریعہ انسان کا انجام بخیر ہوتا ہے اور اس کو جنت نصیب ہوتی ہے۔پھر فرمایا وَ بَيِّنَةٍ مِّنَ الْهُدى یعنی جب قیامت تک تمام بنی نوع انسان کے لئے یہ قرآن مجید ہدایت ہے۔اور دوسری جگہ ہمیں اسلامی تعلیم میں یہ بھی ملتا ہے کہ انسان اس دنیا میں نسلاً بعد نسل ہر لحاظ سے ترقی کرتا چلا جائے گا۔اس کا علم بھی ، اس کی عقل بھی اور اس کا انداز فکر بھی ترقی کی راہ پر چلتا چلا جائے گا۔تو آخر ایسا زمانہ آ جائے گا کہ جب انسان یا انسانوں میں سے اکثر حصہ محض دین العجائز پر قانع نہیں رہے گا بلکہ وہ کہے گا کہ ہم نے مان لیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے اور کہ اس پر ہمیں عمل بھی کرنا ہے لیکن ہمیں تسلی نہیں جب تک کہ ہمیں اس حکم کی حکمتیں نہ بتائی جائیں اور دلائل نہ سمجھائے جائیں وغیرہ وغیرہ گو یا اس میں ایک پیشگوئی بھی مضمر تھی۔تو فرماتا ہے کہ اس تعلیم میں جہاں جہاں دعویٰ پیش کیا گیا ہے اس کے عقلی دلائل بھی پیش کر دیئے گئے ہیں جہاں کہیں حکم دیا گیا ہے ساتھ ہی اس کی حکمتیں بھی بیان کر دی گئی ہیں۔انسانی دماغ خواہ ترقی کی کتنی منازل طے کرتا چلا جائے خواہ کتنے ہی بلند مقام پر پہنچ جائے۔بہر حال وہ قرآن کریم کا محتاج رہے گا۔وَالْفُرْقَانِ اور اس قرآن میں ایسے نشانات اور دلائل رکھے گئے ہیں جوحق اور باطل کے در میان امتیاز قائم کر دیتے ہیں حتی کہ کوئی اشتباہ باقی نہیں رہتا جیسا کہ خود انہی آیات میں اللہ تعالیٰ نے قبولیت دعا کا ذکر کیا ہے یہ ایک ایسی چیز ہے کہ اس کے سامنے باطل ٹھہر ہی نہیں سکتا۔