خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 693 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 693

خطبات ناصر جلد اول ۶۹۳ خطبہ جمعہ ۱۹ رمئی ۱۹۶۷ء اقوام عالم کو ایک مرکز تو حید پر جمع کر کے بین الاقوامی وحدت قائم کرنے کا وعدہ الہی خطبہ جمعہ فرمود ه ۱۹ رمئی ۱۹۶۷ء بمقام مسجد مبارک۔ربوہ تشہد، تعوذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے آیہ وَ إِذْ جَعَلْنَا الْبَيْتَ مَثَابَةً لِلنَّاسِ وَآمَنَّا وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرهِمَ مُصَلَّى ( البقرة :۱۲۶) تلاوت فرمائی۔اور پھر فرمایا۔ان تئیس مقاصد میں سے جن کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی ان آیات میں کیا ہے جن کا ایک ٹکڑا اس وقت بھی میں نے تلاوت کیا ہے سات کے متعلق میں اس سے قبل اپنے خطبات میں بیان کر چکا ہوں اور بتا چکا ہوں کہ وہ مقاصد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے کس طرح حاصل ہوئے۔آٹھواں مقصد جس کا ذکر یہاں ہے مثابة کے لفظ میں بیان ہوا ہے۔میں نے بتایا تھا کہ خانہ کعبہ کی تعمیر کی یہ آٹھویں غرض ہے اور وہ یہ ہے کہ یہاں ایک ایسا رسول مبعوث ہو گا جو تمام اقوامِ عالم کو أُمَّةٌ وَاحِدَةٌ بنادے گا اور ایک ایسی شریعت نازل ہوگی جس کے ذریعہ سے تمام منتشر اور پراگندہ اقوام کو ایک مرکز تو حید اور مرکز پاکیزگی پر لا جمع کیا جائے گا۔یہ مقصد بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے ہی حاصل ہوا۔مَثَابَةً کے لغوی معنی ایک تو یہ ہیں۔مُجْتَمَعُ النَّاسِ بَعْدَ تَفَزُقِهِمْ انتشار اور تفرقہ کے پیدا ہو جانے کے بعد پھر