خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 691
خطبات ناصر جلد اول ۶۹۱ خطبه جمعه ۱۲ رمئی ۱۹۶۷ کر ایک کپڑا بدن پر رکھ لیتا ہے۔لیکن اس کا طواف کرنے والا بالکل نزع ثیاب کر کے خدا کے واسطے نگا ہو جاتا ہے۔طواف عشاق الہی کی ایک نشانی ہے عاشق اس کے گردگھومتے ہیں گویا ان کی اپنی مرضی باقی نہیں رہی وہ اس کے گردا گر دقربان ہو رہے ہیں۔“ تو یہ آسمانی حج ہے۔جب تک کوئی شخص اس بیت اللہ کا حج نہیں کرتا زمین کا حج بھی قبولیت حاصل نہیں کرتا تو حج کرنے والوں حج کی نیت رکھنے والوں کو یہ نکتہ بھولنا نہیں چاہیے۔ظاہری عبادتیں جو ہیں وہ ہم نے کر لیں اور جو باطنی عبادت ہے جس پر اللہ تعالیٰ کا حکم صادر ہوتا ہے اس کے متعلق ہمیں کچھ پتہ نہیں کہ قبول ہوئے یا نہیں ہوئے تو اس ظاہری عبادت کے بعد کسی قسم کا فخر اور عجب اور خودی اور انانیت کیوں پیدا ہو۔اس سے تو اور بھی دوری اپنے رب سے پیدا ہو جاتی ہے شکر کا مقام ہو اور حمد کے گیت گائے جائیں۔یہ تو ٹھیک ہے لیکن وہ بھی اس طرح جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ جس وقت خدا کا ایک پیارا بندہ اپنے رب کی عبادت میں مصروف ہوتا ہے اور عاجزی اور انکسار اور گریہ وزاری کے ساتھ سجدہ ریز ہوتا ہے اگر اس وقت کوئی دوسرا شخص اسے دیکھ لے تو اپنے دل میں اسے اتنی ہی شرمندگی محسوس ہوتی ہے جس طرح اس شخص کو شرمندگی محسوس ہوتی ہے جو دنیا کے تعلقات میں محو ہو اور کوئی شخص آکے اس کو۔پس یہ پیار کی باتیں ظاہر کرنے والی نہیں ہوتیں۔محبت کی یہ باتیں تو بندے اور رب کے درمیان ایک راز ہوتا ہے اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔دنیا ان سے واقف نہیں کیونکہ وہ دنیا سے دور ہیں اور دنیا سے بلند ہیں لیکن جو شخص خدا تعالیٰ کو چھوڑ کر دنیا کے قریب آنا چاہتا ہے اور رفعتوں اور بلندیوں کو چھوڑ کر خُلُود الَی الْأَرْضِ کرتا ہے تا کہ اسے دنیا میں شناخت کیا جائے اور اس کی تعریف کی جائے تو دنیا کے تو وہ قریب آ گیا مگر خدا تعالیٰ سے وہ دور ہو گیا اور بلندیوں اور روحانی رفعتوں سے وہ ہاتھ دھو بیٹھا۔اللہ تعالیٰ ہر ایک شخص کو ہم میں سے اس سے محفوظ رکھے اور جیسا کہ اس نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اپنے وعدے دیئے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی امت کے لئے بشارتیں دیں ان بشارتوں کے موافق