خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 685 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 685

خطبات ناصر جلد اوّل ۶۸۵ خطبہ جمعہ ۱۲ رمئی ۱۹۶۷ اور ان کے رگ وریشہ میں اس قدر محبت الہیہ تاثیر کر جاتی ہے کہ ان کے وجود کی حقیقت بلکہ ان کی جان کی جان ہو جاتی ہے اور محبوب حقیقی سے ایک عجیب طرح کا پیار ان کے دلوں میں جوش مارتا ہے اور ایک خارق عادت انس اور شوق ان کے قلوب صافیہ پر مستولی ہو جاتا ہے کہ جو غیر سے بکی منقطع اور گستہ کر دیتا ہے اور آتشِ عشق الہی ایسی افروختہ ہوتی ہے کہ جو ہم صحبت لوگوں کو اوقات خاصہ میں بدیہی طور پر مشہود اور محسوس ہوتی ہے اور سب سے بزرگ تر ان کے صدق قدم کا نشان یہ ہے کہ وہ اپنے محبوب حقیقی کو ہر یک چیز پر اختیار کر لیتے ہیں اور اگر آلام اس کی طرف سے پہنچیں تو محبت ذاتی کے غلبہ سے برنگ انعام ان کو مشاہدہ کرتے ہیں اور عذاب کو شربت عذب کی طرح سمجھتے ہیں کسی تلوار کی تیز دھاران میں اور ان کے محبوب میں جدائی نہیں ڈال سکتی اور کوئی بات عظمی ان کو اپنے اس پیارے کی یادداشت سے روک نہیں سکتی اسی کو اپنی جان سمجھتے ہیں اور اسی کی محبت میں لذات پاتے اور اسی کی ہستی کو ہستی خیال کرتے ہیں اور اسی کے ذکر کو اپنی زندگی کا ماحصل قرار دیتے ہیں۔اگر چاہتے ہیں تو اسی کو ، اگر آرام پاتے ہیں تو اسی سے۔تمام عالم میں اسی کو رکھتے ہیں اور اسی کے ہو رہتے ہیں۔اسی کے لئے جیتے ہیں، اسی کے لئے مرتے ہیں۔عالم میں رہ کر پھر بے عالم ہیں اور با خود ہو کر پھر بے خود ہیں۔نہ عزت سے کام رکھتے ہیں نہ نام سے، نہ اپنی جان سے ، نہ اپنے آرام سے، بلکہ سب کچھ ایک کے لئے کھو بیٹھتے ہیں اور ایک کے پانے کے لئے سب کچھ دے ڈالتے ہیں۔لائد رک آتش سے جلتے جاتے ہیں اور کچھ بیان نہیں کر سکتے کہ کیوں جلتے ہیں اور تفہیم اور تفہیم سے صُةٌ وَبُكُم ہوتے ہیں اور ہر یک مصیبت اور ہر یک رسوائی کے سہنے کو طیار رہتے ہیں اور اس سے لذت پاتے ہیں۔اس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس مقدس جماعت کا نقشہ یوں کھینچا اور بیان فرمایا ہے کہ ابراہیمی وعدہ کے مطابق اور ان بشارتوں کے مطابق جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے دی تھیں۔