خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 666
خطبات ناصر جلد اوّل خطبہ جمعہ ۵ رمئی ۱۹۶۷ء بات پر شاہد ہے کہ اس معنی میں بیت اللہ ساری دنیا کے لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے قبل مبارک کبھی نہیں ہوا یعنی اقوام عالم کے دلوں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے قبل خانہ کعبہ کی ، اس بیت اللہ کی محبت اس رنگ میں کبھی پیدا نہیں ہوئی کہ یہ اس کی طرف کھچے چلے آتے اور خانہ کعبہ میں کوئی ایسا سامان بھی نہ تھا کہ اگر اقوام عالم کے نمائندے وہاں پہنچتے تو ان کے دلوں کی تسکین کا وہ باعث بنتا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد اس لحاظ سے دنیا کا نقشہ بدل گیا اقوام عالم کے دلوں میں ایک طرف بیت اللہ کی محبت پیدا ہوئی تو دوسری طرف ایسے سامان بھی پیدا ہو گئے کہ لوگ وہاں جائیں اور روحانی یا منقولی یا عقلی یا دینی علوم سیکھیں اور وہ ایسے علوم ہوں جو تمام قوموں کو ہر زمانہ کے رہنے والوں کو دینی اور دنیوی فوائد پہنچا سکیں اس معنی کے لحاظ سے تاریخی ثبوت اتنا واضح ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے ساتھ اس غرض کو پورا کیا گیا ہے کہ اس پر مزید کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔دوسرے معنی مبارگا کے جو یہاں چسپاں ہوتے ہیں یہ ہیں کہ مکہ کو مولد بنایا جائے گا ایک ایسی شریعت کا جس میں وہ تمام بنیادی صداقتیں اور ہدایتیں جمع کر دی جائیں گی جو انبیاء سابقین کی شریعتوں میں متفرق طور پر پائی جاتی تھیں۔صرف قرآن کریم ہی ایک ایسی شریعت ہے جس نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ میں نے تمام پرانی صداقتوں کو اپنے اندر جمع کیا ہوا ہے۔قرآن کریم سے قبل کسی شریعت نے بھی ایسا دعویٰ نہیں کیا اور نہ وہ ایسا دعویٰ کر سکتے تھے۔کیونکہ ان کو نازل کرنے والا خدا جانتا تھا کہ ان شرائع کا نزول خاص قوموں اور ایک خاص زمانہ تک کے لئے ہے۔قرآن کریم نے یہ دعویٰ مختلف آیات میں کیا ہے۔جن میں سے بعض میں اس وقت اپنے دوستوں کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔اللہ تعالیٰ سورۃ الانعام میں فرماتا ہے۔وَهذَا كِتب اَنْزَلْنَهُ مُبْرَكَ فَاتَّبِعُوهُ وَاتَّقُوا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ۔(الانعام : ۱۵۶) یعنی یہ قرآن ایک ایسی کتاب ہے اور ایک ایسی شریعت ہے جو مُبارک ہے تمام آسمانی کتابوں کی خوبیاں اور ان کی بنیادی صداقتیں گویا بہہ کر اس کے اندر آ گئی ہیں۔اب تم اس