خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 658
خطبات ناصر جلد اوّل ۶۵۸ خطبہ جمعہ ۲۱ را پریل ۱۹۶۷ء قرآن کریم کی تعلیم کے جو کمالات ہیں اور ان کی جو وسعت ہے اور اس کی جوشان ہے اس سے ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ قرآن کریم کے مخاطب اپنی استعدادوں میں پہلی تمام امتوں سے بڑھے ہوئے ہیں ورنہ وہ قرآن کریم کے حامل نہیں ہو سکتے تھے یعنی قرآن کریم کے مخاطب اپنی صلاحیتوں اور استعدادوں میں پہلی سب اُمتوں سے افضل اور برتر اور بزرگ تر ہیں اور پھر جب یہ استعدادیں اور صلاحیتیں قرآنی تعلیم کی تربیت کے نیچے آئیں تو روح القدس کی معرفت اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسیہ کے نتیجہ میں اور آپ کی متابعت کی برکت سے ایسے روحانی وجود پیدا ہوئے جو اپنی کمیت اور کیفیت اور صورت اور حالت میں تمام پہلے انبیاء کے روحانی بچوں سے اکمل اور اتم ٹھہرے اور جب تک یہ خیر امت پیدا نہ ہو جاتی کہ کوئی پہلی اُمت اس کے مقابلہ میں نہ ٹھہر سکتی اور یہ سب سے آگے نہ نکل جاتی اور آئندہ کوئی ایسی اُمت پیدا نہ ہو سکتی جو اس سے آگے بڑھ جائے یعنی وہ اپنے عروج اور کمال کو پہنچی ہوئی ہو اس وقت تک وُضِعَ لِلنَّاسِ کا وعدہ پورا نہیں ہوتا تھا کیونکہ ناقص شریعت کے نتیجہ میں اور ناقص تربیت سے یہ امید نہیں رکھی جاسکتی کہ وہ تمام اکناف عالم کو فائدہ پہنچانے والی ہو۔غرض افاضۂ خیر میں نہ کسی اُمت نے آج تک اُمت مسلمہ کا مقابلہ کیا اور نہ کوئی ایسی اُمت قیامت تک پیدا ہوسکتی ہے جو امت مسلمہ کے مقابلہ میں آئے۔پس اللہ تعالیٰ نے یہاں فرمایا کہ كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ اسی ابراهیمی وعده کے مطابق تمہیں لِلنا کس پیدا کیا گیا ہے تمام دنیا تم سے فیوض حاصل کرے گی تم سے برکات پائے گی اور دلیل اس کی یہ ہے کہ تم خیر امت ہو ہر دو لحاظ سےاستعداد کے لحاظ سے بھی اور تربیت کے نتیجہ میں جو رنگ اسوۂ رسول اور اخلاق حسنہ کا تم نے اپنے اوپر چڑھایا ہے اس کے لحاظ سے بھی اور تم ہی وہ ہو سکتے ہو جن سے ساری دنیا فائدہ اُٹھا سکے۔پس تمہارا خیر امت ہو جانا تمہاری صلاحیتوں اور استعدادوں کا اپنے کمال تک پہنچ جانا اور پھر ان صلاحیتوں اور استعدادوں کی تربیت کا اپنے کمال تک پہنچ جانا یہ بتاتا ہے کہ وہ وعدہ پورا ہو گیا کہ بیت اللہ کو وُضِعَ لِلنَّاسِ تمام اقوامِ عالم کے فائدہ اور بہبود کے لئے کھڑا کیا جاتا ہے۔یہ بھی یادر ہے کہ انسان تمام بنی نوع انسان کو صرف اسی صورت میں فائدہ پہنچا سکتا ہے