خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 47 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 47

خطبات ناصر جلد اول ۴۷ خطبہ جمعہ ۱۷؍دسمبر ۱۹۶۵ء وجہ سے کھانا نہیں پکا سکا۔اکثر گھرانے مزدوروں کے ہوتے ہیں جو روزانہ کماتے ہیں اور جو کماتے ہیں وہی کھاتے ہیں۔اتفاقاً کسی گھرانے کا ذمہ دار شخص ایک یا دو دن کے لئے بیمار ہو جاتا ہے تو اگر محلے والے اس سے پوری طرح واقف ہوں۔تو ان کو معلوم ہوگا کہ آج فلاں شخص مسجد میں نظر نہیں آیا اس لئے وہ اسے دیکھنے جائیں گے۔بیمار ہو گا تو اس کی عیادت کریں گے۔اس طرح ان کو ثواب بھی مل جائے گا۔پھر ان کو خود ہی خیال ہوگا کہ یہ بیمار ہے اسے اور اس کے گھر والوں کو کھانے کی ضرورت ہے۔ان کے لئے کھانا مہیا کرنا چاہیے پریذیڈنٹ محلہ یا سیکرٹری یا جس کی ڈیوٹی لگائی جائے وہ دو تین گھروں میں جا کر کہہ سکتا ہے کہ جو کچھ توفیق ہے اپنے بھائی کی مدد کے لئے دیدو۔اسی طرح وہ گھرانہ بھو کا بھی نہیں رہے گا اور آپ کا بھی کوئی زائد خرچ نہیں ہوگا اور پھر خدا کی نگاہ میں آپ کتنے بڑے ثواب کے مستحق ہو جا ئیں گے۔فَوَقَهُمُ اللهُ شَرِّ ذَلِكَ الْيَوْمِ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں ایسے لوگوں کو اس دن کے شر سے محفوظ رکھوں گا اور نجات دوں گا اپنی رحمت سے نوازوں گا اور اپنی مغفرت کی چادر سے ان کو ڈھانپ لوں گا۔پس ہمارے خدا نے ایک حکم دیا ہے ہمارے پیارے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے تاکید۔فرمائی ہے کہ محتاجوں کوکھانا کھلاؤ اور ہم نے اس تاکیدی ارشاد پر عمل کرنا ہے۔جیسا کہ میں نے کہا ہے۔احمدیوں میں عام طور پر یہ احساس پایا جاتا ہے کہ کوئی احمدی بھوکا نہ رہے لیکن میرا احساس یہ ہے کہ ابھی اس حکم پر کما حقہ عمل نہیں ہو رہا۔اس لئے آج میں ہر ایک کو جو ہماری کسی جماعت کا عہدیدار ہے متنبہ کرنا چاہتا ہوں کہ وہ ذمہ دار ہے۔اس بات کا کہ اس کے علاقہ میں کوئی احمدی بھوکا نہیں سوتا۔دیکھو میں یہ کہ کر اپنے فرض سے سبکدوش ہوتا ہوں کہ آپ کو خدا کے سامنے جوابدہ ہونا پڑے گا۔اگر کسی وجہ سے آپ کا محلہ یا جماعت اس محتاج کی مدد کرنے کے قابل نہ ہو تو آپ کا فرض