خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 612
خطبات ناصر جلد اوّل کی توفیق عطا کرتا رہے۔۶۱۲ خطبہ جمعہ ۱۷ مارچ ۱۹۶۷ء اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جنہیں آسمان سے نور ملتا ہے اور عرفان عطا کیا جاتا ہے وہ جانتے ہیں کہ إِنَّمَا الْحَيَوةُ الدُّنْيَا لَعِبٌ وَ لَهُو کہ دنیا اور اس کے اموال اور آرام اور اس کی آسائشیں باطل ہیں۔محض کھیل کا سامان ہیں جن کا کوئی اعتبار نہیں اور جن کو کوئی ثبات نہیں۔چند دن کی فانی لذات کے سوا کچھ بھی نہیں پھر یہ وہ چیزیں ہیں جو انسان کو اس مقصد حیات سے پرے ہٹا دینے والی ہیں جس کی خاطر اس کے رب نے اسے پیدا کیا تھا۔وَاِنْ تُؤْمِنُوا وَتَتَّقُوا اس کے مقابل اگر تم اپنے رب کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے ایمان لاؤ اور حقیقت کو سمجھنے لگو اور تم سے جو مطالبے کئے جاتے ہیں تم ان کو پورا کرو اور تقویٰ کی باریک راہوں میں اللہ تعالیٰ کی رضا کی راہوں کو ڈھونڈو تو جو بطور قربانی تم سے لیا جاتا ہے وہ ضائع نہیں ہو گا بلکہ يُؤْتِكُمْ أُجُورَكُمْ تمہارے اجر اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل سے (نہ کہ تمہارے کسی استحقاق کے نتیجہ میں ) تمہیں عطا کرے گا اور یہ اجر جو ہے وہ اس شکل میں ہوگا کہ وہ باقی رہے گا اور جو ثواب تمہیں ملے گا وہ بھی باقی اور دائم رہنے والا ہوگا تمہیں باقیات الصالحات دیئے جائیں گے اور تم اللہ تعالیٰ کی حقیقی نعمتوں اور ابدی حیات کے وارث بن جاؤ گے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جن چیزوں کا تم سے مطالبہ کیا جاتا ہے ان میں تمہارے اوقات بھی ہیں ، ان میں تمہاری عزتیں بھی ہیں، ان میں تمہاری لذتیں اور اور آرام بھی ہیں، ان میں تمہاری وجاہتیں بھی ہیں، ان میں تمہارا وقار بھی ہے اور ان میں تمہارے اموال بھی ہیں اور چونکہ اموال کا مطالبہ کیا جاتا ہے اس لئے شیطان فوراً بیچ میں آکو دتا ہے اور انسان کو بہکانے لگتا ہے لیکن ولا يَسْئَلُكُمْ اَمْوَالَكُم وہ مالک حقیقی جو تمہیں بہترین اجر دینے والا ہے وہ (نعوذ باللہ ) ایک سائل کے طور پر، وہ ایک بھیک منگے اور فقیر کے طور پر تو تمہارے دروازے کے آگے کھڑا نہیں ہوتا انفاق فی سبیل اللہ کے مطالبہ کے وقت تمہارا رب بطور سائل، فقیر اور بھیک منگے کے طور پر تمہارے دروازہ پر نہیں آتا وہ تو ایک غنی اور ایک سخی اور ایک دیا لوہستی کی حیثیت میں تمہارے دروازے پر آتا ہے اور اپنی رحمت کے جوش میں خود چل کر تمہارے پاس آتا ہے وہ اس لئے آتا